جرمنی نے طالبان کے خلاف افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا اعلان کردیا۔
جرمن وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ جرمنی نے آسٹریلیا، کینیڈا اور نیدرلینڈز کے ساتھ مل کر خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کے آرٹیکل 29 کے تحت ابتدائی قانونی اقدامات کیے ہیں اور طالبان انتظامیہ سے رابطہ بھی کیا ہے۔
جرمن عہدیدار کے مطابق برلن اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ طالبان کو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہ بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ جرمنی افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت دوحہ عمل سمیت دیگر بین الاقوامی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔
د جرمني د بهرنیو چارو وزارت یوې سرچینې افغانستان انټرنشنل ته وویل، چې برلین له خپلو نړیوالو شریکانو سره په ګډه د افغان مېرمنو د حقونو د نقض په تړاو د طالبانو د ځواب ویلو لړۍ تعقیبوي.https://t.co/F2EeM9OQBQ pic.twitter.com/Px7F3BuCAT
— افغانستان انټرنشنل – پښتو (@afintlpashto) September 18, 2026
آسٹریلیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ کینبرا جرمنی، کینیڈا اور نیدرلینڈز کے تعاون سے طالبان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھا رہا ہے۔
کنونشن کے آرٹیکل 29 کے تحت رکن ممالک کے درمیان کنونشن کی تشریح یا اطلاق سے متعلق تنازعات مخصوص قانونی مراحل کے بعد ثالثی اور بالآخر عالمی عدالت انصاف میں لے جائے جا سکتے ہیں۔
جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیدرلینڈز نے ستمبر 2024 میں مشترکہ طور پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اس شق کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ 20 سے زائد ممالک اس اقدام کی حمایت کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:قندھار سے پنجشیر تک طالبان کے خلاف حملے، مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی
اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین سے امتیاز کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہریوں کے حقوق شریعت کے دائرہ کار میں محفوظ ہیں۔














