جرمنی کا طالبان کے خلاف خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا اعلان

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی نے طالبان کے خلاف افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا اعلان کردیا۔

جرمن وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ جرمنی نے آسٹریلیا، کینیڈا اور نیدرلینڈز کے ساتھ مل کر خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کے آرٹیکل 29 کے تحت ابتدائی قانونی اقدامات کیے ہیں اور طالبان انتظامیہ سے رابطہ بھی کیا ہے۔

جرمن عہدیدار کے مطابق برلن اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ طالبان کو خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہ بنانے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ جرمنی افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت دوحہ عمل سمیت دیگر بین الاقوامی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔

آسٹریلیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ کینبرا جرمنی، کینیڈا اور نیدرلینڈز کے تعاون سے طالبان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھا رہا ہے۔

کنونشن کے آرٹیکل 29 کے تحت رکن ممالک کے درمیان کنونشن کی تشریح یا اطلاق سے متعلق تنازعات مخصوص قانونی مراحل کے بعد ثالثی اور بالآخر عالمی عدالت انصاف میں لے جائے جا سکتے ہیں۔

جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیدرلینڈز نے ستمبر 2024 میں مشترکہ طور پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اس شق کے تحت قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ 20 سے زائد ممالک اس اقدام کی حمایت کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:قندھار سے پنجشیر تک طالبان کے خلاف حملے، مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین سے امتیاز کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہریوں کے حقوق شریعت کے دائرہ کار میں محفوظ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp