بھارت میں میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان (NEET) کے سوالیہ پرچے کے مبینہ لیک ہونے اور دوبارہ امتحان کے اعلان کے بعد کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے ملک بھر میں غم و غصہ اور احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آسام کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ ریما بیگم بھی ان طلبہ میں شامل تھیں جنہوں نے اس واقعے کے بعد اپنی جان لے لی، ریما کا خواب ڈاکٹر بن کر اپنی دائمی بیمار والدہ کا علاج کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
ریما نے برسوں کی محنت اور مہنگی کوچنگ کے بعد یقین کر لیا تھا کہ وہ اس بار سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کر لیں گی، لیکن امتحان کے سوالیہ پرچے کے لیک ہونے کی خبر اور دوبارہ امتحان کے اعلان نے ان کی امیدیں توڑ دیں۔
'NEET, not so neat.'
Youngsters display placards to protest against the Modi government's failure to prevent repeated NEET paper leaks, at the BRSV protest in Hyderabad. pic.twitter.com/0m3tIVYA9u
— Mission Telangana (@MissionTG) July 24, 2026
ریما کے والد رضا السلام نے بتایا کہ ان کی بیٹی امتحان کے بعد اپنی کامیابی کے بارے میں پوری طرح پراعتماد تھی، مگر جیسے ہی دوبارہ امتحان کا اعلان ہوا وہ یکسر بدل گئی اور خاموشی اختیار کر لی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مچھلیوں کا کاروبار کرتے ہیں اور بیٹی کی تعلیم پر بڑی رقم خرچ کی، جس کے لیے اسے 2 برس تک بڑے شہروں کے کوچنگ مراکز بھی بھیجا گیا۔
ان کے بقول، ریما کو خدشہ تھا کہ اگر دوبارہ امتحان ہوا تو اس کی ساری محنت اور اخراجات ضائع ہو جائیں گے۔

لاکھوں امیدوار، محدود نشستیں
بھارت میں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ معاشی استحکام اور بہتر مستقبل کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم نشستوں کی شدید کمی طلبہ پر غیر معمولی دباؤ ڈالتی ہے۔
اس سال 20 لاکھ سے زائد امیدواروں نے NEET امتحان دیا، جبکہ پورے ملک میں صرف تقریباً ایک لاکھ 37 ہزار میڈیکل نشستیں دستیاب تھیں۔
سابق پروفیسر اور ادبی اسکالر جی این دیوی کے مطابق لاکھوں خاندانوں کے لیے NEET میں کامیابی خوشحال زندگی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے، لیکن امیدواروں کی تعداد اور دستیاب اداروں میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔
ایک اور خاندان کا خواب بکھر گیا
ریاست راجستھان کے کسان راجیش کمار نے اپنے بیٹے پردیپ مینا کی کوچنگ کے لیے آبائی زمین فروخت کی اور 11 لاکھ روپے قرض لیا۔
ان کے مطابق انہوں نے 3 برس تک دن میں 16 گھنٹے کھیتوں میں محنت کی تاکہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بن سکے۔
امتحان کے بعد پردیپ نے والد کو گلے لگا کر کہا تھا کہ اب اسے ڈاکٹر بننے سے ’خدا بھی نہیں روک سکتا‘۔

تاہم دوبارہ امتحان کے اعلان کے اگلے ہی روز 22 سالہ پردیپ نے خودکشی کر لی۔
اسی طرح اتر پردیش کے 21 سالہ رتک مشرا نے بھی امتحانی پرچہ لیک ہونے کی خبر سامنے آنے کے ایک روز بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
ان کے والد کے مطابق یہ ان کے بیٹے کی تیسری کوشش تھی اور وہ اس بار اپنی کامیابی کے بارے میں پرامید تھا۔
ذہنی دباؤ میں اضافہ
دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے انہیں شدید ذہنی اذیت سے دوچار کیا۔
19 سالہ چیتنیہ اگروال نے کہا کہ جب ایک طالب علم اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ امتحان دیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کیا جائے تو یہ شدید حوصلہ شکن ہوتا ہے۔
کولکتہ کے ایک کوچنگ سینٹر کے استاد ابھیجیت پاترا کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحان کی تیاری پہلے ہی نہایت ذہنی دباؤ کا باعث ہوتی ہے، جبکہ پیپر لیک جیسے واقعات اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

حکومت سے کارروائی کا مطالبہ
تعلیمی ماہرین کے مطابق غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم پر برسوں کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، اس لیے امتحانی بے ضابطگیاں انہیں شدید مایوسی اور احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
ریما بیگم کے والد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے۔
’غریب خاندان کے بچے کے لیے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنا اور اسے پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حکومت کو اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے۔‘













