جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ہیومن ریسورس ماہر اور جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بورڈ رکن نعمان عزیز نے کہا ہے کہ جرمنی کو ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ہنر مند افراد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر پاکستانی نوجوان زبان، جدید مہارتوں اور عالمی سوچ پر توجہ دیں تو وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وی نیوز کے پروگرام ’وی ایکسکلوسیو‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نعمان عزیز نے کہاکہ وہ پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں، پاکستان سے ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف ممالک میں تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ گزشتہ قریباً 10 برس سے جرمنی میں مقیم ہیں۔
مزید پڑھیں: جرمنی کو ملازمت کے لیے کس شعبے کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے؟
انہوں نے کہاکہ جرمن معاشرے میں کامیاب انٹیگریشن یا معاشرے کا حصہ بننے کے لیے سب سے اہم چیز مقامی زبان سیکھنا ہے۔ ان کے مطابق صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ نیٹ ورکنگ، مؤثر رابطے اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
نعمان عزیز نے کہاکہ پاکستانی نوجوان اکثر زبان اور اعتماد کی کمی کے باعث مقامی معاشرے سے نہیں جڑ پاتے، جبکہ جرمنی میں تعلقات بنانے کے لیے پہل خود کرنا پڑتی ہے۔
جرمنی کی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ یورپ کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتی ہے اور بظاہر معاشی دباؤ کے باوجود صنعتی بنیاد، جدید ٹیکنالوجی اور بڑی عالمی کمپنیوں کی وجہ سے جرمنی اپنی معاشی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور صنعتی صلاحیت موجود ہے، تاہم ملکی مصنوعات کو عالمی ( Brands) میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ Made in Pakistan دنیا بھر میں ایک مضبوط شناخت حاصل کر سکے۔
روزگار کے مواقع پر بات کرتے ہوئے نعمان عزیز نے کہاکہ جرمنی میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ہنر مند افراد کی کمی رہتی ہے۔ ’نرسنگ، پیرامیڈیکل، آئی ٹی، انجینیئرنگ، ریلوے انفراسٹرکچر، ٹیکنیکل ٹریڈز، پلمبنگ اور دیگر شعبوں میں بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار ہے۔‘
انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ جرمن زبان میں کم از کم B1، B2 یا اس سے اعلیٰ سطح کی مہارت حاصل کریں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنائیں اور عالمی معیار کی سوچ اپنائیں تاکہ بین الاقوامی ملازمتوں کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔
نعمان عزیز نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ حکومت سے حکومت (G2G) کی بنیاد پر لیبر (Mobilization) کے معاہدے کرے تاکہ ہنر مند پاکستانیوں کو قانونی طریقے سے بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: جرمنی میں بڑی تعداد میں ملازمین کی ضرورت، کوالیفکیشن کیا ہو؟ تنخواہ کتنی ملے گی؟
انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان زبان کی تعلیم، جدید مہارتوں اور بین الاقوامی شراکت داری پر توجہ دے تو نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کے ذریعے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔










