جرمنی میں ہر سال ایک لاکھ ہنر مند افراد کی کمی، پاکستانی نوجوانوں کے لیے سنہری موقع

اتوار 26 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ہیومن ریسورس ماہر اور جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بورڈ رکن نعمان عزیز نے کہا ہے کہ جرمنی کو ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ہنر مند افراد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر پاکستانی نوجوان زبان، جدید مہارتوں اور عالمی سوچ پر توجہ دیں تو وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وی نیوز کے پروگرام ’وی ایکسکلوسیو‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نعمان عزیز نے کہاکہ وہ پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں، پاکستان سے ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف ممالک میں تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے رہے، جبکہ گزشتہ قریباً 10 برس سے جرمنی میں مقیم ہیں۔

مزید پڑھیں: جرمنی کو ملازمت کے لیے کس شعبے کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے؟

انہوں نے کہاکہ جرمن معاشرے میں کامیاب انٹیگریشن یا معاشرے کا حصہ بننے کے لیے سب سے اہم چیز مقامی زبان سیکھنا ہے۔ ان کے مطابق صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ نیٹ ورکنگ، مؤثر رابطے اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

نعمان عزیز نے کہاکہ پاکستانی نوجوان اکثر زبان اور اعتماد کی کمی کے باعث مقامی معاشرے سے نہیں جڑ پاتے، جبکہ جرمنی میں تعلقات بنانے کے لیے پہل خود کرنا پڑتی ہے۔

جرمنی کی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ یورپ کی مضبوط ترین معیشتوں میں شمار ہوتی ہے اور بظاہر معاشی دباؤ کے باوجود صنعتی بنیاد، جدید ٹیکنالوجی اور بڑی عالمی کمپنیوں کی وجہ سے جرمنی اپنی معاشی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور صنعتی صلاحیت موجود ہے، تاہم ملکی مصنوعات کو عالمی ( Brands) میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ Made in Pakistan دنیا بھر میں ایک مضبوط شناخت حاصل کر سکے۔

روزگار کے مواقع پر بات کرتے ہوئے نعمان عزیز نے کہاکہ جرمنی میں ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ ہنر مند افراد کی کمی رہتی ہے۔ ’نرسنگ، پیرامیڈیکل، آئی ٹی، انجینیئرنگ، ریلوے انفراسٹرکچر، ٹیکنیکل ٹریڈز، پلمبنگ اور دیگر شعبوں میں بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار ہے۔‘

انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ جرمن زبان میں کم از کم B1، B2 یا اس سے اعلیٰ سطح کی مہارت حاصل کریں، پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنائیں اور عالمی معیار کی سوچ اپنائیں تاکہ بین الاقوامی ملازمتوں کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔

نعمان عزیز نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ وہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ حکومت سے حکومت (G2G) کی بنیاد پر لیبر (Mobilization) کے معاہدے کرے تاکہ ہنر مند پاکستانیوں کو قانونی طریقے سے بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: جرمنی میں بڑی تعداد میں ملازمین کی ضرورت، کوالیفکیشن کیا ہو؟ تنخواہ کتنی ملے گی؟

انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان زبان کی تعلیم، جدید مہارتوں اور بین الاقوامی شراکت داری پر توجہ دے تو نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کے ذریعے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ڈاکٹر کی فیس سے بچنے کے لیے مریضوں کے انوکھے بہانے، ایک خاتون ڈاکٹر کی بپتا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے