پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، جس میں محمد علی نے 4 اور محمد عباس نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
ٹاس اور آغاز
ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور میچ کے پہلے دن بارش کے باعث کھیل شدید متاثر رہا، صرف 14.1 اوورز ہی ہو سکے تھے۔ اُس وقت میزبان ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز بنائے تھے۔
🚨🏝️🇵🇰 Muhammad Ali Finished the Windies lineup on 311 On Second Session OF Day 2 Take 4 Wickets Important Wicket Of Shai Hope Look at Shattered The Stamps..#PAKvsWI pic.twitter.com/2YlcHaOvr8
— Inshal Siddiqui🤍🇵🇰✨ (@InshalSid123) July 26, 2026
ویسٹ انڈیز کی پارٹنر شپس
بارش کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو تیگنارائن چندرپال اور کیویم ہوج نے دوسری وکٹ کے لیے 51 رنز کی شراکت قائم کی، تاہم چندرپال 21 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد عامر جنگو نے ہوج کا ساتھ دیا اور تیسری وکٹ کے لیے 42 رنز کا اضافہ کیا، مگر وہ بھی 21 رنز بنا کر محمد عباس کا دوسرا شکار بن گئے۔
دن کے آخری حصے میں کیویم ہوج اور شائی ہوپ نے محتاط اور پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست 88 رنز کا اضافہ کیا اور ٹیم کا مجموعہ 194 رنز تک پہنچا دیا۔ ہوج نے اس دوران اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی۔
Mohammad Ali finally gets his much deserved wicket, West Indies 5 down!!!! pic.twitter.com/fbTW6PcWyJ
— Danish (@PctDanish) July 26, 2026
دوسرے دن کا کھیل
دوسرے دن کھیل کا آغاز ہوا تو ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم بالآخر 311 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ شائی ہوپ 92 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے، جبکہ کیویم ہوج نے 84 رنز کی اننگز کھیلی۔ شمار جوزف نے 23 رنز بنائے، جبکہ تیگنارائن چندرپال اور عامر جنگو نے 21-21 رنز کی اننگز کھیلیں۔
پاکستانی بولرز کی کارکردگی
پاکستان کی جانب سے محمد علی سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں، محمد عباس نے 3، خرم شہزاد نے 2 جبکہ عامر جمال نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔
علی عثمان کا یادگار ڈیبیو
پاکستانی ٹیم کی جانب سے 33 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے پہلی مرتبہ قومی ٹیم کی ٹیسٹ کیپ حاصل کرتے ہوئے میدان میں قدم رکھا، جو ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو تھا۔














