افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (UNAMA) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے کم از کم 33 جماعت خانوں (عبادت گاہوں) کو بند کر کے مذہبی آزادیوں کو شدید محدود کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے طالبان کی ‘وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر’ نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر صوبہ بدخشان میں اسماعیلی برادری کے جماعت خانوں کی بندش کا سلسلہ شروع کیا اور پیروکاروں کو وہاں عبادت سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان رجیم کے تحت انسانی حقوق کی پامالیاں اور بڑھتی غربت، افغان عوام مشکلات کا شکار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بند کیے جانے والے 33 جماعت خانوں میں سے 17 زیبات (Zebak) کے ضلع میں، 14 اشکاشم (Ishkashim) میں اور 2 واخان (Wakhan) کے علاقے میں واقع ہیں۔ طالبان حکام کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ان عمارتوں کو اب مساجد کے طور پر استعمال کیا جائے۔
طالبان وزارتِ خارجہ کا موقف
یوناما کی رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے طالبان کی وزارتِ خارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ جائزہ رپورٹوں کے مطابق ہر جماعت خانے کی صورتحال دوسرے سے مختلف تھی اور اس حوالے سے تمام فیصلے انفرادی نوعیت کی بنیاد (Case-by-Case) پر کیے گئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ بعض علاقوں میں مساجد کی کمی تھی، جبکہ بعض جماعت خانوں کو رہائشی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
شیعہ برادری پر پابندیاں اور گرفتاریاں
یوناما کی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان نے صرف اسماعیلی برادری ہی نہیں بلکہ اہل تشیع کی مذہبی سرگرمیوں پر بھی سخت قدغنیں عائد کی ہیں۔ عاشورہ کے موقع پر پروان اور لوگر کے اضلاع میں شیعہ برادری کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی مذہبی تقریبات صرف مخصوص کردہ مساجد تک ہی محدود رکھیں۔
یہ بھی پڑھیے دنیا بھر میں افغان طالبان کے خلاف ماحول بنتا جا رہا ہے
اس کے علاوہ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ کابل میں عاشورہ کے مذہبی پرچم لہرانے اور ان کی نمائش کرنے کی پاداش میں طالبان نے شیعہ برادری کے 45 افراد کو حراست میں بھی لیا۔














