ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل کم نیند لیتا رہے تو صرف چھ ہفتوں میں اس کا وزن بڑھ سکتا ہے اور کمر کا گھیراؤ بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی نیند صحت مند جسم اور دل کی حفاظت کے لیے متوازن غذا اور ورزش جتنی ہی اہم ہے۔
امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی ارونگ میڈیکل سینٹر کی تحقیق کے مطابق ہر رات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کم سونے والے افراد کا وزن صرف 6 ہفتوں میں اوسطاً ایک پاؤنڈ (تقریباً 450 گرام) بڑھ گیا، جبکہ ان کی کمر کے گھیراؤ میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
https://twitrter.com/Daily_MailUS/status/2081809646155673874
یہ تحقیق طبی جریدے اینلز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں 95 ایسے بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا جو پہلے ہی دل یا میٹابولزم سے متعلق بیماریوں کے خطرے سے دوچار تھے۔ محققین نے شرکا کی چھ ہفتے مناسب نیند اور پھر چھ ہفتے کم نیند کی عادت کا موازنہ کیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کم نیند لینے والے افراد نے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارا، اگرچہ ان کی ورزش کی مقدار میں نمایاں فرق نہیں آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزن بڑھنے کے باوجود جسم میں چربی یا پٹھوں کے تناسب میں کوئی واضح تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ محققین نے شرکا کی خوراک کا بھی جائزہ نہیں لیا، اس لیے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وزن بڑھنے کی بنیادی وجہ کیا تھی۔

تحقیق میں شامل نہ ہونے والی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر سومی جاوید کا کہنا ہے کہ نیند جسم کے میٹابولزم کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل کم نیند جسم کے لیے وزن کو قابو میں رکھنا مشکل بنا دیتی ہے، جبکہ سنِ یاس (مینوپاز) سے گزرنے والی خواتین اس سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ اس مرحلے میں نیند کے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بھی اچھی نیند کو دل کی صحت کے لیے ضروری قرار دیتی ہے اور بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے سونے کی سفارش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہفتہ وار نیند پوری کرنے کی کوشش کیوں بن جاتی ہے پیر کی تھکن کی وجہ؟
محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق محدود پیمانے پر کی گئی تھی، اس لیے مزید بڑے اور طویل مدتی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ کم نیند اور وزن میں اضافے کے تعلق کو مزید بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا اور ورزش کے ساتھ مناسب نیند بھی اچھی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔














