افغانستان کے صوبہ سرِ پل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے طالبان انٹیلیجنس افسر ملا امراللہ سلطانی سمیت 2 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 2 دیگر زخمی ہو گئے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ ملک میں طالبان مخالف مزاحمتی کارروائیوں میں اضافے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق صوبہ سرِ پل کے مرکزی شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان انٹیلی جنس افسر ملا امراللہ سلطانی سمیت 2 اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ
رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے بھی حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم حملہ آوروں کی شناخت یا واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) سمیت طالبان مخالف گروپ بدخشان، پنج شیر، بغلان، تخار، قندوز، بلخ اور دیگر صوبوں میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور امن و امان کی صورتحال پر عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں طالبان مخالف سرگرمیاں تیز ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان نے تین ماہ میں تقریباً 400 افراد گرفتار، میڈیا پر شکنجہ مزید سخت، اقوام متحدہ کا انکشاف
افغان میڈیا کے مطابق بدخشان کو طالبان مخالف مزاحمت کا اہم مرکز قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہاں کی صورتحال طالبان حکومت کے لیے بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنج کی نشاندہی کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ طالبان حکومت نے مزاحمتی گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی، جبکہ افغانستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے متعلق مختلف فریقین کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔













