پاکستان کے فاسٹ بولرز خرم شہزاد اور محمد عباس کو ویسٹ انڈیز کے خلاف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا دے دی گئی۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں کھلاڑیوں نے آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے لیول ون کی خلاف ورزی کی، جو بلے باز کے آؤٹ ہونے کے بعد ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں سے متعلق ہے جو اس کی تضحیک کریں یا جارحانہ ردعمل کو بھڑکا سکتے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نسیم شاہ کو مہنگی پڑ گئی، آئی سی سی کا بڑا فیصلہ
خرم شہزاد پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ محمد عباس کو سرکاری تنبیہ جاری کی گئی۔ اس کے علاوہ دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک، ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا۔ گزشتہ 24 ماہ کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ پہلی خلاف ورزی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق خرم شہزاد نے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کے 17ویں اوور میں شائی ہوپ کو آؤٹ کرنے کے بعد ان کے قریب جا کر جارحانہ انداز میں جشن منایا، جسے اشتعال انگیزی کا سبب بننے والا عمل قرار دیا گیا۔
محمد عباس کو بھی آخری وکٹ لینے کے بعد بلے باز جومیل واریکن کے قریب پُرجوش انداز میں جشن منانے پر سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاس اینجلس اولمپکس 2028: کرکٹ کی تاریخی واپسی، ٹیموں کی کوالیفکیشن کا فارمولا سامنے آگیا
دونوں کھلاڑیوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی ایلیٹ پینل کے میچ ریفری جیف کرو کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کرلی، جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
یہ الزامات آن فیلڈ امپائرز الیکس وارف اور رچرڈ کیٹلبرو کے ساتھ تیسرے امپائر جیارامان مدناگوپال نے عائد کیے تھے۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق لیول ایک بار خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری تنبیہ، زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور ایک یا 2 ڈیمیرٹ پوائنٹس دیے جاسکتے ہیں۔
اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے دوران 4 یا اس سے زیادہ ڈیمیرٹ پوائنٹس حاصل کر لیتا ہے تو انہیں معطلی کے پوائنٹس میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ کھلاڑی پر ایک ٹیسٹ یا 2 ایک روزہ یا 2 بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچوں کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔













