بیلاروس کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل مورا ویکو پاویل نکولائیوچ نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، تکنیکی اشتراک اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دفاعی شراکت داری کا نیا عزم
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعرات کو ہونے والی ملاقات کے دوران پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بیلا روس کا دوطرفہ اقتصادی تعاون کے لیے درکار قانونی فریم ورک بہتر بنانے پر اتفاق
انہوں نے مشترکہ تربیتی مشقوں، دفاعی صنعتی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو باہمی تعاون کا کلیدی ستون قرار دیا۔
ایئر چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور دفاعی شعبے میں جدت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بیلاروس کا پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت پر اظہارِ اطمینان
بیلاروس کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل مورا ویکو پاویل نکولائیوچ نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور خود انحصاری کے سفر کی تعریف کی۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بیلاروس پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید وسیع کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے مابین اسٹریٹجک تعلقات کو مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور بیلاروس کے درمیان 8 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط
واضح رہے کہ پاکستان اور بیلاروس کے مابین طویل عرصے سے دفاعی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان عسکری وفود کے تبادلے، مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی پیداوار میں تعاون کے کئی معاہدے ہو چکے ہیں۔
موجودہ ملاقات کو عالمی اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو ایک نئی سمت دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔














