کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ’ (را) سے تعلق رکھنے والے 2 خطرناک دہشتگردوں کو گرفتار کر کے ملک کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق خفیہ اطلاعات پر کی گئی اس کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت عبدالعزیز اور ولایت شاہ کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ہے۔ ملزمان کے قبضے سے 4 کلو گرام اعلیٰ معیار کا بارودی مواد، 3 تیار شد ہ آئی ای ڈی (IED) بم، 3 کلاشنکوفیں، نقد رقم اور دیگر حساس سامان برآمد کر کے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سویلینز کے خلاف ملٹری ٹرائل کی سماعت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کا تذکرہ کیوں ہوا؟
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان بھارتی ایجنسی کی ایماء پر ساہیوال اور اوکاڑہ کے حساس مقامات اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کے مقامی سہولت کاروں اور نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان میں ’را‘ کے نیٹ ورک کے خلاف ماضی کی اہم پیش رفت
پاکستان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے ماضی میں بھی ملک کے مختلف حصوں سے بھارتی ایجنسی ’را‘ کے اہم سلیپر سیلز، جاسوسوں اور تخریب کاروں کو گرفتار کر کے ان کے متعدد نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے۔
مارچ 2016 میں پاک فوج نے بلوچستان کے علاقے چمن/مشخیل سے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کولبھوشن یادو کو گرفتار کیا، جو ‘را’ کے پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہو کر بلوچستان اور کراچی میں تخریب کاری، فنڈنگ اور نادیدہ جنگ کی قیادت کر رہا تھا۔
سی ٹی ڈی اور رینجرز نے کراچی کے مختلف علاقوں (کورنگی، ملیر، اور لیاڑی) سے ‘را’ سے تربیت یافتہ اور وہاں سے فنڈنگ حاصل کرنے والے متعدد سلیپر سیلز کے ارکان کو گرفتار کیا، جو ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی پھیلانے میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیے ’پاکستانی جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر سرکاری مہمان؟ بھارتی بیانیہ بے نقاب
لاہور کے جوہر ٹاؤن دھماکے کے بعد سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں (لاہور، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ) سے ‘را’ کے لیے کام کرنے والے مقامی سہولت کاروں کو گرفتار کر کے ان کا پورا نیٹ ورک تباہ کیا۔
سیکیورٹی اداروں نے مظفر آباد، راولاکوٹ اور گلگت سے ایسے گروہوں کو حراست میں لیا جنہیں بھارتی ایجنسی کی جانب سے سی پیک (CPEC) کے منصوبوں کو نقصان پہنچانے، بم دھماکوں اور نیشنلسٹ گروہوں کو بھڑکانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
پشاور اور سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران ‘را’ اور کالعدم تنظیموں (مثلاً ٹی ٹی پی) کے مابین گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کرتے ہوئے کئی ہینڈلرز اور سہولت کاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔














