وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق ورلڈ بینک کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھرپور عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم سے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگآبزر کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں ورلڈ بینک نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے سے متعلق رپورٹ پیش کی اور اس کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔
ملاقات میں وزیراعظم نے ورلڈ بینک کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری اور ملکی سماجی و معاشی ترقی میں ادارے کے کردار کو سراہتے ہوئے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان باہمی تعاون ملکی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر (Ms Bolormaa Amgaabazar) کی قیادت میں وفد کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں ادارے کے کردار کی تعریف کی۔ @alihamzaisb pic.twitter.com/3M1pbDqgE7— Media Talk (@mediatalk922) July 31, 2026
ورلڈ بینک کے وفد نے رپورٹ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد مالیاتی وفاقیت، محصولات، اخراجات، وفاقی و صوبائی مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق تجزیہ اور مختلف پالیسی سفارشات پیش کیں۔
مزید پڑھیں:بھارت کو فاش غلطی کا خمیازہ ضرور بھگتنا ہوگا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قوم سے خطاب
وزیراعظم نے رپورٹ کو پالیسی سازی کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی متعلقہ فریقین، خصوصاً صوبوں سے مشاورت اور پاکستان کے آئینی و وفاقی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات کا جائزہ لے اور عوامی مفاد میں قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ اور احسن اقبال، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔














