ٹرمپ کی خوشی، اسرائیل کی ہچکچاہٹ، غزہ معاہدے پر تل ابیب میں تقسیم نمایاں

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں حماس کی جانب سے مرحلہ وار اسلحہ حوالے کرنے کے معاہدے کو امن کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے.

تاہم معاہدے میں اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا اور انتظامی اختیارات بتدریج فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے کی شقوں نے اسرائیل میں شدید سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔

اگرچہ اسرائیلی حکومت نے اس معاہدے پر ابھی تک باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا، تاہم ایک سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ میں اپنی فوجی پوزیشنوں سے دستبردار نہیں ہوگا جب تک حماس کے مکمل اور حقیقی غیر مسلح ہونے کا اطمینان نہیں ہو جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اس کے برعکس صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے سے مطمئن ہے۔

اسرائیل میں خصوصاً دائیں بازو کی جماعتوں نے معاہدے کی سخت مخالفت کی ہے، قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہنی چاہییں۔

سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزنکوٹ نے بھی کہا کہ اگر معاہدہ حماس کی عسکری اور سیاسی طاقت کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں دیتا تو اسے کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے تاحال اس معاملے پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات کے تناظر میں وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہیں ایک طرف اپنی دائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کو مطمئن رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ واشنگٹن اس معاہدے پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرے گا، مستقل فوجی اڈہ قائم کریں گے، اسرائیلی وزیردفاع

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے امریکا کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ معاہدے کی مکمل حمایت کرنے کی صورت میں نیتن یاہو کو اپنے سخت گیر اتحادیوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو ممکنہ طور پر معاہدے کی رسمی حمایت کریں گے، لیکن غزہ سے مکمل فوجی انخلا کا امکان کم ہے۔

ان کے بقول نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی اور سیکیورٹی پالیسی ایسے کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتی، اس لیے انتخابات سے قبل غزہ سے انخلا کے بجائے فوجی دباؤ برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم میں 150 ایکڑ رقبے پر آٹو پروسیسنگ زون قائم کرنے کا منصوبہ

آزاد کشمیر: ن لیگی امیدوار نے فیصل راٹھور کی کامیابی چیلنج کردی، دوبارہ گنتی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

یورپ میں شدید خشک سالی، توانائی کا نیا بحران پیدا، رومانیہ کا آخری فعال جوہری ری ایکٹر بھی بند ہونے کے قریب

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا

خیبرپختونخوا میں 15 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

سہیل آفریدی فارغ، اکبر ایس بابر کی تابڑ توڑ واپسی، عمران خان کا نیا پلان کیا ہے؟

جشن آزادی کی تیاریاں عروج پر، راجا بازار میں سبز ہلالی پرچموں اور جھنڈیوں کی بہار

پاکستان کے نوجوان ’کاکروچ‘ نہیں، قوم کا مستقبل اور اقبال کے شاہین ہیں، رانا مشہود احمد خان

کالم / تجزیہ

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے