’آپ کو شرم آنی چاہیے‘، پروگرام چھوڑنے سے متعلق غلط بیان پر تابش ہاشمی پر تنقید

پیر 3 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف مزاحیہ شو ’ہنسنا منع ہے‘ کے میزبان تابش ہاشمی کی جانب سے جیو نیوز سے اپنے ’5 سالہ سفر کے اختتام‘ سے متعلق پوسٹ نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی تاہم چند گھنٹوں بعد سامنے آنے والی وضاحت نے صارفین کو مزید برہم کر دیا۔

تابش ہاشمی نے گزشتہ روز انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جیو نیوز کے ساتھ ان کا پانچ سالہ سفر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس دوران پروگرام سے وابستہ ٹیم، مہمانوں اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا یادگار باب قرار دیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Tabish Ahmed Hashmi (@tabishhashmi)

اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیل گیا کہ شاید تابش ہاشمی کو حالیہ بیانات، خصوصاً کشمیر سے متعلق گفتگو کے باعث پروگرام کی میزبانی سے الگ کیا گیا ہے۔ متعدد صارفین نے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ مختلف قیاس آرائیاں بھی گردش کرنے لگیں۔

تاہم چند گھنٹوں بعد تابش ہاشمی نے ایک نئی انسٹاگرام پوسٹ میں ’ہنسنا منع ہے‘ کے سیٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آخرکار ہنسنا منع ہے کا سیٹ اپڈیٹ ہو گیا ہے‘۔ اس وضاحت سے واضح ہوا کہ ان کی پہلی پوسسٹ دراصل پروگرام کے سیٹ کی تبدیلی سے متعلق تھی نہ کہ جیو نیوز یا پروگرام سے علیحدگی کے حوالے سے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Hasna Mana Hai (@geohasnamanahai)

تابش ہاشمی کی اس وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اداکارہ مشی خان نے تابش ہاشمی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو شرم آنی چاہیے کہ ایک انتہائی حساس معاملے کو محض اپنی مارکیٹنگ اور نئے سیٹ کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ صرف ٹرینڈنگ میں آنا چاہ رہے تھے، آپ کو علم نہیں تھا کہ لوگ کیا سمجھیں گے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Mishi Khan MK (@mishikhanofficial2)

مقدس فاروق اعوان لکھتی ہیں کہ تابش ہاشمی کا شو بند نہیں ہوا بلکہ وہ ایک نئے شو کے ساتھ آ رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو تابش ہاشمی کو خود وضاحت دے دینی چاہیے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ تابش ہاشمی نے پوری عوام کو ایسا تاثر دیا کہ کشمیر پہ بات کرنے کی وجہ سے انہیں جیو سے نکالا گیا۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ ان کو نکالا نہیں گیا ان کا نیا سیٹ بن رہا ہے اور شو کبھی بند ہوا ہی نہیں۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ جذباتی انداز میں لکھی گئی پہلی پوسٹ نے جان بوجھ کر ایسا تاثر دیا جس سے مداح اور عوام گمراہ ہوئے۔ کئی صارفین نے اسے توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر ایسی مبہم پوسٹس سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے غیر ضروری افواہیں اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp