قطری اور امریکی حکام کی جانب سے ایران جنگ کے سفارتی حل کی امید دلانے والے بیانات کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینجمیں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا۔
جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 2,300 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ 179 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
دوپہر 12 بج کر 9 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,303.35 پوائنٹس یعنی 1.30 فیصد اضافے کے بعد 179,386.57 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
دوسری جانب ایک اہم پیش رفت میں اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان نے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فائنانسنگ کی درخواست کی ہے۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
توقع ہے کہ شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے بعد یہ فنڈز رواں ماہ موصول ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے باوجود سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کے رجحان کے باعث مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی تھی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,100 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بدھ کو نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ مضبوط کارپوریٹ نتائج، ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق پیش رفت کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا، جبکہ تیل کی قیمتوں اور بانڈ ییلڈز میں کمی بھی دیکھی گئی۔
جاپان کا نکیئی انڈیکس 3 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا انڈیکس 4.1 فیصد بڑھ گیا، جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے شیئرز کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 2.4 فیصد اور چین کے بلیو چِپ شیئرز 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔













