افریقی ملک گیمبیا میں ساحلی دلدلی علاقے تانبی ویٹ لینڈ کی خواتین مینگرووز کے جنگلات کی بحالی کے ذریعے ماحولیات کے تحفظ اور اپنے خاندانوں کے روزگار کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام دوبارہ زندہ ہو رہا ہے بلکہ دارالحکومت بانجول کو ساحلی کٹاؤ اور سیلاب جیسے خطرات سے بھی قدرتی تحفظ حاصل ہو رہا ہے۔
34 سالہ فاطو جارجو ہر روز سورج نکلنے سے پہلے اپنے لکڑی کے ڈونگے میں تانبی ویٹ لینڈ کا رخ کرتی ہیں۔ وہ کبھی کیکڑے پکڑتی ہیں اور کبھی سیپیوں (Oysters) کی تلاش میں نکلتی ہیں، مگر گزشتہ چند برسوں سے ان کی ایک اور ذمہ داری بھی ہے، یعنی مینگرووز کے نئے پودے لگانا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کرنا۔
فاطو کا کہنا ہے کہ مینگرووز ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ جتنا یہ جنگل صحت مند ہوگا، اتنا ہی ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوگا۔
جنگل ہی روزگار، جنگل ہی محافظ
گیمبیا کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات مقامی آبادی کے لیے زندگی کی بنیاد ہیں۔ یہی درخت سمندری سیپیوں، کیکڑوں اور مچھلیوں کی افزائش کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ سمندری لہروں، ساحلی کٹاؤ اور سیلاب سے قدرتی ڈھال کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب : جزائر فرسان میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر، مینگروو جنگلات سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے
فاطو کی پرورش بھی انہی جنگلات میں ہوئی۔ صرف 12 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ مینگرووز میں جانا شروع کیا، جہاں انہوں نے سیپیاں جمع کرنا، کیکڑے پکڑنا اور مچھلی کا شکار کرنا سیکھا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، ساحلی کٹاؤ اور بدلتے موسمی حالات کے باعث مینگرووز کے جنگلات کو نقصان پہنچتے دیکھا، جس کے بعد انہوں نے صرف وسائل حاصل کرنے کے بجائے ان کی بحالی کا فیصلہ کیا۔
آج وہ باقاعدگی سے نئے پودوں کا معائنہ کرتی ہیں، خراب پودے تبدیل کرتی ہیں اور ان علاقوں کی نگرانی کرتی ہیں جہاں مزید بحالی کی ضرورت ہو۔
بارشوں میں سیپیوں کا شکار کیوں روک دیا جاتا ہے؟
بارشوں کے موسم میں تانبی ویٹ لینڈ میں سیپیوں کا شکار عارضی طور پر بند کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث خواتین اس دوران کیکڑے اور مچھلی پکڑ کر روزگار کماتی ہیں۔
مقامی ماہرین کے مطابق بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بارشوں میں سیپیاں زہریلی ہو جاتی ہیں، مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔
سمندری حیاتیات کے ماہر داؤد سائیں کے مطابق یہ پابندی گیمبیا کے اویسٹر اینڈ کاکل کو مینجمنٹ پلان کا حصہ ہے، جس کا مقصد سیپیوں کو افزائش نسل، نشوونما اور ذخائر کی بحالی کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔
ان کے مطابق بارشوں میں پانی کے بہاؤ کے ساتھ گندگی اور دیگر آلودہ مواد سمندر میں شامل ہو جاتا ہے، جسے سیپیاں اپنے قدرتی فلٹریشن نظام کے ذریعے جذب کر لیتی ہیں۔ اسی لیے اس عرصے میں شکار روکنے سے نہ صرف ماحول محفوظ رہتا ہے بلکہ صارفین کی صحت بھی متاثر نہیں ہوتی۔
بحالی کے نتائج نمایاں ہونے لگے
48 سالہ سوسن کولی بھی ان خواتین میں شامل ہیں جو کئی دہائیوں سے اسی دلدلی علاقے سے وابستہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آیا جب مینگرووز کی تعداد کم ہونے سے سیپیوں کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی، آمدنی گھٹ گئی اور بہت سے خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے۔
مگر اب بحالی کی کوششوں کے بعد صورتحال بدل چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اب سیپیاں پہلے سے زیادہ تعداد میں اور بہتر جسامت کے ساتھ واپس آ رہی ہیں۔ مینگرووز نے واقعی ہماری زندگی بدل دی ہے۔‘
سوسن اب اپنے بچوں کو نہ صرف ماہی گیری اور سیپیاں جمع کرنے کا ہنر سکھا رہی ہیں بلکہ انہیں یہ سبق بھی دے رہی ہیں کہ قدرتی وسائل کا تحفظ ہی ان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
خواتین کو خصوصی تربیت بھی دی گئی
فاطو اور دیگر خواتین نے گیمبیا میں ساحلی آبادیوں کی معاونت کرنے والے ایک مقامی ماحولیاتی پروگرام کے تحت مینگرووز کی بحالی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔
اس پروگرام کے ذریعے انہیں تباہ شدہ ساحلی جنگلات کی بحالی، ماہی گیری کے قدرتی نظام کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے عملی طریقے سکھائے گئے۔
خواتین کا کہنا ہے کہ اس تربیت نے ان کی سوچ بدل دی۔ اب وہ مینگرووز کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی قدرتی امانت سمجھتی ہیں جس کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔
بانجول کی بقا مینگرووز سے
ماہرین کے مطابق گیمبیا کا دارالحکومت بانجول ایک نشیبی جزیرے پر واقع ہے، جہاں سمندر کی سطح میں مسلسل اضافے، ساحلی کٹاؤ اور سیلاب کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں تقریباً ایک میٹر اضافہ ہوا تو بانجول کے کئی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔
یہ خطرہ صرف مستقبل تک محدود نہیں۔ 2022ء میں آنے والے شدید سیلاب سے گیمبیا میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے، جس سے ساحلی آبادیوں کی کمزوری واضح ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے حکومت کی عدم توجہی یا مافیا کا راج، کراچی میں ماحول دوست مینگرووز کا تیزی سے خاتمہ کیوں ہو رہاہے؟
بانجول کی میئر روہی مالک لووے کا کہنا ہے کہ شہر کا مستقبل مینگرووز کے جنگلات سے براہ راست وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا، بانجول ایک جزیرہ ہے۔ اگر مینگرووز ختم ہوگئے تو شہر کو بچانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سٹی کونسل موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، تاہم انسانی سرگرمیوں کے باعث دلدلی علاقوں کی تباہی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔














