پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشتگردی مذاکرات کا چوتھا دور 4 اگست کو واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس کی قیادت امریکی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشتگردی گریگوری لوگیرفو اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے اسپیشل سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔
دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خلاف شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ خطرات، سرحدی سلامتی بہتر بنانے، دہشت گردوں کے سہولت کار نیٹ ورکس کے خاتمے اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
Pakistan believes that there must be zero tolerance for blatant perpetration of state terrorism – in occupied Jammu and Kashmir, and in other situations of foreign occupation.
Also, the international community must not allow counter-terrorism to be misused and abused as a… pic.twitter.com/wFBUU64wLf
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) August 5, 2026
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور امریکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے شہریوں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بننے والی تنظیموں، جن میں داعش خراسان (ISIS-K)، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ گروہ شامل ہیں، کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے۔
دونوں حکومتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ انسدادِ دہشتگردی میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی سلامتی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ وژن کو فروغ دیا جا سکے۔














