ایک لیک ہونے والی اندرونی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹک ٹاک نے 2021 میں لاکھوں صارفین کے لیے ایک حفاظتی اپ ڈیٹ روک دی تھی تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ اس کے پلیٹ فارم پر صارفین کے وقت گزارنے پر کیا اثر پڑتا ہے۔
بلومبرگ کو فراہم کی گئی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے ایسا نظام تیار کیا تھا جو صارفین کو مسلسل نقصان دہ اور منفی مواد دیکھنے سے روکنے میں مدد دیتا تھا، تاہم کمپنی نے اس کے اثرات جانچنے کے لیے کچھ صارفین کو پرانے الگورتھم پر برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک نے پاکستان میں مزید ڈھائی کروڑ ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں
رپورٹ کے مطابق امریکا میں ٹک ٹاک کے تقریباً 10 فیصد صارفین، جن کی تعداد لگ بھگ 15 ملین بنتی ہے، کو اس حفاظتی تبدیلی سے محروم رکھا گیا تاکہ روزانہ فعال صارفین کے اعداد و شمار پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان صارفین میں 16 سالہ چیس ناسکا بھی شامل تھا، جس کا ٹک ٹاک مواد مبینہ طور پر موت سے قبل ڈپریشن، تنہائی اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے موضوعات پر مبنی ہزاروں ویڈیوز سے بھر گیا تھا۔
ٹک ٹاک کی الگورتھم اور حفاظتی ٹیموں کی جانب سے کی جانے والی اندرونی جانچ میں بتایا گیا کہ چیس کے اکاؤنٹ پر مواد کو محدود کرنے والا حفاظتی نظام ‘جان بوجھ کر’ فعال نہیں کیا گیا تھا، یہ محض اتفاق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا: ٹک ٹاک کی بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کی کوششیں ناکافی قرار
اس انکشاف کے بعد ٹک ٹاک کے ارکانِ قانون ساز سے کیے گئے وعدوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اندرونی جائزے کے چند ہفتوں بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو شو زی چیو نے امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوکر نوجوانوں کے تحفظ اور شفافیت کو ترجیح قرار دیا تھا۔
کانگریس کے سوالات کے تحریری جواب میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس کی ہدایات تمام مواد پر لاگو ہوتی ہیں، تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ لاکھوں صارفین کو حفاظتی اقدامات اور صارفین کے پلیٹ فارم پر وقت گزارنے کے درمیان توازن جانچنے کے تجربے میں شامل کیا گیا تھا۔
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ صارفین کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے اور کمپنی اعتماد و تحفظ کے اقدامات میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے رواں سال ذاتی نقصان اور خودکشی سے متعلق کئی مقدمات بھی طے کیے ہیں۔














