کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے جدید ماڈلز سے متعلق حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے متعدد واقعات نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا اور برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے رپورٹ کیے گئے مختلف واقعات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت مستقبل میں غیر متوقع خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی ہگنگ فیس سائبر حملہ: نئی تفصیلات سامنے آگئیں، اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی صلاحیتوں پر ماہرین پریشان

یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے اعتراف کیا کہ اس کے ایک اے آئی ماڈل نے تجرباتی ماحول کے دوران ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم کی حفاظتی حدود عبور کر کے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اس واقعے کو ہگنگ فیس کے شریک بانی تھامس وولف نے پوری صنعت کے لیے ’ویک اپ کال‘ قرار دیا۔

اس کے بعد اینتھروپک نے بتایا کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے ہزاروں تجربات میں سے 3 مواقع پر غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی جبکہ برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے بھی اپنی جانچ کے دوران ایک سیکیورٹی واقعے کی نشاندہی کی۔

ادارے کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے جدید ماڈلز نے انٹرنیٹ تک رسائی ملنے پر جعلی انسانی پروفائلز بنانے اور سائبر حملوں کی کوشش کرنے جیسے غیر معمولی رویے دکھائے، جس کے بعد ادارے نے اے آئی کی جانچ کے عمل میں مزید شفافیت اور سخت نگرانی پر زور دیا۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس سائبر حملے کی مزید تفصیلات جاری کردیں

ادھر میٹا نے بھی انکشاف کیا کہ ایک تیسرے فریق کی جانب سے کیے گئے تجربے کے دوران تکنیکی غلط ترتیب کے باعث اس کا ایک اے آئی ماڈل غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ سے منسلک ہو گیا تھا۔

اے آئی کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟

ماہرین کے مطابق کسی بھی اے آئی ماڈل کو عوام کے لیے جاری کرنے سے پہلے اسے خصوصی محفوظ ماحول جسے سینڈ باکس کہا جاتا ہے میں مختلف آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کی تحقیقات میں مزید اے آئی ایجنٹس کے قابو سے نکلنے کے شواہد، حکومتی نگرانی کے مطالبات تیز

اوپن اے آئی کے معاملے میں ماڈل نے اسی محفوظ ماحول میں موجود ایک خامی تلاش کر کے حفاظتی نظام کو عبور کیا جبکہ برطانوی ادارے کے مطابق ان کے تجربات میں ماڈلز کو جان بوجھ کر انٹرنیٹ تک رسائی دی گئی تھی اور حفاظتی فلٹرز بھی عارضی طور پر غیر فعال کیے گئے تھے تاکہ ان کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے سائبر سکیورٹی پروفیسر ایلن ووڈورڈ کے مطابق یہ تینوں واقعات مختلف نوعیت کے ضرور ہیں مگر ان سے ایک مشترکہ سبق ملتا ہے کہ اب اصل خطرہ اے آئی کی جانچ کے مرحلے میں موجود ہے۔

ان کے بقول ماضی میں سافٹ ویئر ٹیسٹنگ کا بنیادی اصول تھا کہ تجرباتی ماحول میں ہونے والی ہر چیز وہیں محدود رہے لیکن حالیہ واقعات نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی کے بعد اینتھروپک کا اے آئی ماڈل بھی حدود توڑ بیٹھا، 3 اداروں کے سسٹمز تک رسائی کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اے آئی ماڈلز کی جانچ کو عام سافٹ ویئر ٹیسٹنگ کے بجائے خطرناک مواد کی جانچ کی طرح سخت حفاظتی انتظامات کے تحت انجام دینا ہوگا جہاں ہر سرگرمی کی مسلسل نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا واضح منصوبہ موجود ہو۔

بڑھتی صلاحیتیں، بڑھتے خدشات

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ایجنٹس مستقبل میں ای میلز کے جواب دینے، میٹنگز منظم کرنے، کیلنڈر سنبھالنے اور دیگر روزمرہ کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے تاہم جوں جوں انہیں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے ان سے وابستہ خطرات بھی بڑھتے جائیں گے۔

برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے چیف ٹیکنالوجی افسر اولی وائٹ ہاؤس نے کہا کہ حالیہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کے ساتھ سیکیورٹی خطرات بھی بڑھ رہے ہیں اس لیے ان کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔

ماہرین کی تجاویز

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو جدید اے آئی ماڈلز کی آزادانہ جانچ کے لیے خصوصی ادارے قائم کرنے چاہییں جبکہ تیسرے فریق کی نگرانی، سخت حفاظتی ضوابط اور مؤثر قانونی فریم ورک بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: کیا اے آئی نے خود ہیکنگ شروع کر دی؟ اوپن اے آئی کے انکشاف نے دنیا کو چونکا دیا

تاہم پروفیسر ایلن ووڈورڈ کے مطابق موجودہ صورتحال کو مصنوعی ذہانت کے مکمل بحران کے طور پر دیکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری طور پر دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی مستقبل میں محفوظ اور ذمہ دارانہ اے آئی کی ترقی کا راستہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایشین گیمز ہاکی ڈرا، پاکستان پول ’بی‘ میں شامل، ملائیشیا اور چین سمیت سخت حریفوں کا سامنا

واٹس ایپ کے گروپ چیٹس مزید جدید، صارفین کے لیے 3 نئے فیچرز متعارف

گوگل میپس میں نیا فیچر: اب ایپ آپ کے لیے کھانا بھی آرڈر کرے گی

افغانستان میں طالبان مخالف گروپس کی کارروائیاں تیز، چوکی پر حملہ کرکے اسلحہ پر قبضے کا دعویٰ

لیک رپورٹ نے ٹک ٹاک کی نوجوانوں کے تحفظ کی پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ