سب گل سڑ چکا ہے

اتوار 9 اگست 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نوجوان قتل ہوتا ہے۔ پولیس کے پاس لاش، خاندان، جائے وقوعہ اور تفتیش کا موقع موجود ہے، مگر اس معاملے کو دیکھنے کا ایک آسان راستہ بھی ہے، اسے خودکشی قرار دے دو۔ تحقیقات کمزور ہوں تو کہانی اور شواہد کی جگہ مفروضے کافی ہوتے ہیں۔

اس کیس میں بھی یہی ہونے جا رہا تھا۔ 25 سالہ میر رضا علی خان لاپتا ہوا اور اگلے روز اس کی لاش ملی۔ پولیس نے ابتدائی سمت خودکشی کی طرف موڑ دی اور وجہ مالی مشکلات بتائی۔ خاندان نے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نوجوان کو اغوا، تشدد اور قتل کیا گیا۔ مگر پولیس کے لیے شاید یہ زیادہ پیچیدہ کہانی تھی، جہاں کمزور تفتیش کے ساتھ ایک مشکوک پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی موجود تھا۔

پھر پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید طارق میدان میں آئیں۔ انہوں نے زبانی کلامی بات کرنے کے بجائے سوالات اٹھائے، خامیوں کی نشاندہی کی اور جب بات نہ سنی گئی تو اسے تحریری شکل دے دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک سرکاری خط خبر بن کر سامنے آیا۔

تحریری دستاویز میں ابتدائی پوسٹ مارٹم کی 14 خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ موت کی نوعیت متنازع ہونے کے باوجود ایکسرے نہیں ہوئے تھے، ڈی این اے اور گن شاٹ ریزیڈیو کے نمونے نہیں لیے گئے تھے، کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ نہیں ہوا تھا اور گولی کے زخموں کی بنیادی فرانزک پیمائش تک موجود نہیں تھی۔ سوال یہ بن گیا کہ پہلی بار لاش کا معائنہ کرنے والوں نے آخر دیکھا کیا تھا؟

اور پھر، واقعے کے 8 دن بعد، جائے وقوعہ سے گولی کا خول ملتا ہے۔ ایسے مقدمے میں جہاں موت کی وجہ ہی زیر بحث ہو، یہ محض ایک خول نہیں۔ یہ تفتیش کے پورے طریقہ کار پر ایک سوال ہے۔

رپورٹرز کو کہا جاتا ہے کہ خبر ضرور چلائیں۔

خاندان عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، عدالت قبر کشائی کا حکم دیتی ہے اور پولیس سرجن کی سربراہی میں بورڈ بنتا ہے۔ لیکن ڈی جی ہیلتھ ایک الگ بورڈ بنا دیتے ہیں۔ نیا بورڈ قبرستان پہنچتا ہے تو خاندان انکار کر دیتا ہے کیونکہ وہ پولیس سرجن کے تشکیل کردہ بورڈ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بالآخر حکومت پیچھے ہٹتی ہے، پہلا بورڈ بحال ہوتا ہے اور قبر کھلتی ہے۔

دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے خودکشی کے بیانیے کو مزید مشکوک بنا دیا۔ جسم پر متعدد زخموں، ٹوٹی ہوئی ہڈیوں اور دل کو زخمی کرنے والے گولی کے راستے کے شواہد سامنے آئے۔ فرانزک ٹیم نے وہ نمونے بھی جمع کیے جو پہلی بار نہیں لیے گئے تھے۔ اگر پولیس سرجن بروقت مداخلت نہ کرتیں، خاندان عدالت نہ جاتا اور دوبارہ معائنہ نہ ہوتا تو کیا یہ مقدمہ خودکشی قرار دے کر بند کر دیا جاتا؟ پولیس کی ناکامی صرف یہ نہیں کہ تفتیش درست سمت میں نہیں تھی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک خاندان کو انصاف کے لیے عدالت اور قبر تک جانا پڑا۔

مگر اس کہانی کا ایک اور افسوسناک پہلو بھی ہے۔ جب پولیس ناکامی کے آخری درجوں پر پہنچی تو ایک آڈیو کال اور والدین کے خلع کے مقدمے کو میڈیا کے سامنے لا کر ایک نئی خبر بنانے کی کوشش کی گئی۔ کیا والدین کا خلع کا مقدمہ بیٹے کی موت سے جڑا ہے یا کسی قتل کی فرانزک تفتیش کا متبادل ہو سکتا ہے؟ صحافت میں ہر دستیاب معلومات خبر نہیں ہوتی۔ کسی کے خاندانی تنازع کو قتل کی تفتیش کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرنا خطرناک ہے۔ میڈیا کو پولیس کا ترجمان بننے کے بجائے سوال پوچھنے چاہیے تھے کہ  8 دن بعد خول کیوں ملا اور پوسٹ مارٹم میں خامیاں کیوں چھوڑی گئیں؟

اس کیس نے پولیس کی نااہلی کے ساتھ میڈیا کی کمزوری بھی بے نقاب کر دی ہے۔ ایک طرف پولیس سرجن  نظام کے اندر رہ کر سائنسی بنیادوں پر سچ تلاش کرتی ہیں، اور دوسری طرف ایک ایسا نظام ہے جو خودکشی سے شروع ہو کر بورڈ بدلنے اور ذاتی مقدمات کو خبر بنانے تک جاتا ہے۔

ایک اور اہم بات۔ شناخت نہیں ہو سکی تھی کہ لاش گلی سڑی تھی۔ ڈی این اے ضروری ہوا۔ نمونے لیے گئے تاکہ معلوم ہو کہ آیا لاش رضا کی ہے بھی نہیں۔ مگر تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس لاش سے پہلے یہاں پولیس کا پورا نظام اور ہماری نام نہاد صحافت بھی اندر سے مکمل طور پر گل سڑ چکی ہے اور اب اس تعفن سے چہار سو بدبو آ رہی ہے۔ اس بدبو کا کیا کیا جائے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے ضلع سوراب میں امن و امان کے خدشات پر 15 اگست تک کرفیو نافذ

امریکا ایران سے محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن کے 7 ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

مکہ دفاعی معاہدے کی خوشی میں اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں شاندار آتش بازی، عوام کا جوش و خروش

ویڈیو

’اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے چنا ہے‘، مکہ دفاعی معاہدے پر اراکین پارلیمنٹ کا اظہار خیال

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں