اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضے کو مزید استحکام دینے کے لیے ‘کوچاو یعقوب’ نامی صیہونی بستی میں 627 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے رسمی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔
فلسطینی وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مطابق ‘اسرائیل لینڈ اتھارٹی’ نے رام اللہ اور البیرہ کے گورنریٹ میں واقع اراضی پر 627 نئی غیر قانونی رہائشی اکائیوں کی تعمیر کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ تعمیراتی کمپنیوں کو اپنی پیشکشیں جمع کرانے کے لیے 30 نومبر کی حتمی تاریخ دی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی یہ متنازع منصوبہ منظوری کے محض 15 ماہ کے اندر ہی منصوبہ بندی سے عملی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بیت المقدس کے کسی حصے پر اسرائیل کی خودمختاری کو قطعاً تسلیم نہیں کیا جائےگا، اسحاق ڈار
یہ نیا منصوبہ تقریباً 253 ڈونم (25 ہیکٹر) سے زائد رقبے پر محیط ہے جس کی منظوری اپریل 2025 میں دی گئی تھی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف غیر قانونی بستی کے رقے میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے قریبی صیہونی بستیوں اور سڑکوں کے شبکے کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل محض رہائشی مکانات ہی نہیں بلکہ صیہونی بستیوں کے معاشی بنیادی ڈھانچے میں بھی وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
کمیشن نے مزید بتایا کہ سنہ 2026 کی پہلی چھ ماہی کے دوران ہی اسرائیلی حکام نے 12 مختلف غیر قانونی ٹینڈرز کا اعلان کیا ہے جن کے تحت 1,138 سے زائد رہائشی یونٹس کے علاوہ صنعتی زونز، دفاتر، نرسنگ ہومز اور سیاحتی مراکز کی تعمیر شامل ہے۔ رواں برس کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے 11,000 سے زائد پرتشدد حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ اور غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔














