شام نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ روس کے ساتھ ملک میں موجود اس کے 2 فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ حمیمیم فضائی اڈے اور طرطوس بحری اڈے کو ’باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے نئے انتظامات کے تحت مشترکہ تربیتی اور استعداد کار بڑھانے کے مراکز ‘ میں تبدیل کیا جائے گا۔
سانا کے مطابق ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں اس عمل کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
اس دوران دونوں اڈوں میں موجود شہری تنصیبات دمشق کے حوالے کردی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے روس شام میں اپنا فوج و سیاسی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں، پیوٹن اور احمد الشرع کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟
روس کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر باضابطہ طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مذاکرات کے دوران حمیمیم اور طرطوس، دونوں فوجی اڈے بدستور فعال رہے۔
سانا کے مطابق شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اتوار کو دونوں مقامات کا دورہ کیا تاکہ ’تاریخی مفاہمتی یادداشت میں شامل تنصیبات اور سہولیات کا معائنہ ‘ کیا جا سکے۔
’ اہم پیشرفت‘
شام کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ عمر الحصری نے بتایا کہ اتھارٹی نے لطاکیہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنا شروع کردیا ہے۔ یہ شہری ہوائی اڈہ حمیمیم ایئربیس سے متصل ہے اور اس کا آپریشن روس کی موجودگی سے قریبی طور پر منسلک رہا ہے۔
الحصری نے کہا کہ اتھارٹی کی خصوصی ٹیموں نے ہوائی اڈے، اس کی تنصیبات اور نظام کا تکنیکی و آپریشنل جائزہ شروع کردیا ہے تاکہ اس کی بحالی کے لیے منصوبہ تیار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے شامی صدر احمد الشرع کا روس کا پہلا دورہ، بشارالاسد کی حوالگی کا مطالبہ متوقع
انہوں نے اس اقدام کو ’ شام کے ہوائی اڈوں کی بحالی اور انہیں دوبارہ فعال کرنے اور قومی سول ایوی ایشن نظام میں ضم کرنے کی جانب ایک اہم قدم‘قرار دیا۔
شام نے ماسکو کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ صدر احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ماسکو میں دو مرتبہ ملاقات بھی کی ہے۔













