فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

اتوار 9 اگست 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیرو عبداللہ شفیق کو بابر اعظم ‘کتابی’ یعنی ‘بکش’ کہتے ہیں، لیکن اس کی وجہ ان کی کتابوں میں دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اس عرفیت کے سزاوار بیٹنگ میں ٹیکسٹ بک تکنیک کی وجہ سے ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس خبر کے راوی ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر اور کمنٹیٹر این بشپ ہیں جنہوں نے کمنٹری کے دوران عبداللہ شفیق ‘کتابی’ کے آبائی شہر سیالکوٹ کی ادبی روایت اور بہترین شعرا اور ادیبوں کا حوالہ دیا اور علامہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض کا تذکرہ کیا تھا۔ انہوں نے کسی غلط فہمی کی بنیاد پر پروین شاکر کا نام بھی لیا جن کا اس شہر سے تعلق نہیں ہے۔

سیالکوٹ کے بارے میں بشپ کی جانکاری کا ماخذ ویسٹ انڈیز کے سابق کرکٹر اور مبصر سیموئل بدری ہیں۔

این بشپ نے عبداللہ شفیق کی بیٹنگ تکنیک کو سراہتے ہوئے اسے نتھری ستھری قرار دیا۔ ان کے تبصرے کو ادب کے تڑکے نے چاشنی بخشی۔ اردو کا محاورہ ہے ہونٹوں سے نکلی کوٹھوں چڑھی، جس سے مراد ہے کہ بات منہ سے نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی، اس محاورے کا صحیح معنوں میں اطلاق تو لگتا ہے سوشل میڈیا کے دور میں ہوا ہے۔ این بشپ نے ادھر بات کہی ادھر چہار سُو اس کا چرچا ہونے لگا۔

یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں کہ سیالکوٹی کرکٹروں کو شاعری سے علاقہ ہے یا نہیں لیکن اس شہر کے شاعروں کی کرکٹ سے لگاوٹ کے بارے میں خوب معلوم ہے۔

مثلاً فیض احمد فیض کے کرکٹ سے لگاؤ کے شواہد مختلف کتابوں اور رسالوں میں چھپے ان کے بیانات کی صورت میں موجود ہیں بلکہ ایک بیان کی تو ویڈیو بھی موجود ہے۔

2012 میں معروف ادبی جریدے دنیا زاد، کراچی میں ریڈیو پاکستان پر فیض احمد فیض کے ایک پینل انٹرویو کا متن شائع ہوا تھا۔ اس میں انتظار حسین کے سوالات کے جواب میں فیض نے بچپن میں کتابوں سے رشتہ قائم ہونے کے بارے میں بتایا جس کی رو سے انہیں کتابوں کا رسیا کہا جا سکتا ہے۔

کتاب سے ہٹ کر انہیں بس کرکٹ سے سروکار تھا۔ ان کے مطابق ’یہ صحیح ہے کہ ہم نے بچپن میں سوائے کرکٹ کھیلنے کے اور باقی جو لہو و لعب ہیں جس کا ہمیں آج تک دکھ ہے، ہم اس میں شریک نہیں ہوئے تو وہ ایک قسم کی محرومی ضرور ہے۔‘

ممتاز صحافی اور دانشور آئی اے رحمان نے ہیرلڈ، کراچی کے لیے انٹرویو میں فیض سے پوچھا تھا کہ زندگی میں کوئی ایسی خواہش جس کے پورا نہ ہونے پر مایوسی ہوئی ہو تو انہوں نے کرکٹر بننے کی خواہش پوری نہ ہونے کا بتایا تھا۔

بی بی سی کے لیے کرشن گولڈ نے فیض کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے انٹرویو کیا تھا جو 1985 میں ‘ادب لطیف’ کے فیض نمبر میں اس سرخی کے ساتھ شائع ہوا :

‘میں کرکٹر بننا چاہتا تھا’

افتخار عارف نے فیض احمد فیض سے ایک انٹرویو میں جس میں ان کے ساتھ احمد فراز بھی شریک تھے، ان سے زندگی کے کسی پچھتاوے کے بارے میں پوچھا تھا تو ان کا جواب تھا:

’ایک پچھتاوا تو یہ ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ہماریAmbition یہ تھی کہ ہم ایک بڑے کرکٹر بنیں۔ اور ابھی تک کبھی کبھی ہم خواب میں دیکھتے ہیں کہ ہم کرکٹ میچ کھیل ہے ہیں۔‘

مرزا ظفرالحسن سے گفتگو میں فیض صاحب نے استاد بن کر امرتسر جانے سے پہلے کی نارسائیوں کو کچھ یوں بیان کیا:

‘شروع میں خیال ہوا کہ ہم کوئی بڑے کرکٹر بن جائیں کیونکہ لڑکپن سے کرکٹ کا شوق تھا اور بہت کھیل چکے تھے۔ پھر جی چاہا استاد بننا چاہیے، ریسرچ کرنے کا شوق تھا۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بنی، ہم کرکٹر بنے نہ نقاد اور نہ ریسرچ کی۔ البتہ استاد ہو کر امرتسر چلے گئے۔’

امرتسر میں فیض صاحب کالج کی کرکٹ ٹیم کے صدر تھے۔ ایک سردار جی ٹیم کو کرکٹ کا سازوسامان فراہم کرتے تھے۔ فیض کا کیمبرج جانا مقرر ہوا تو طے پایا کہ وہ ان کے ایجنٹ بن کر انگلینڈ میں کام کریں گے جس کا انہیں معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ سردار صاحب ہر کام سے پہلے جوتشی سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔ فیض کو ساتھ لے کر اس کے پاس گئے تو جوتشی نے ان کا ہاتھ دیکھ کر کہاکہ راستہ بند ہے اور وہ تو انگلینڈ جا ہی نہیں رہے۔

فیض نے کہا: ہماری جیب میں ٹکٹ ہے، کیمبرج میں داخلہ مل چکا ہے، تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

خیر اس جوتشی کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی، کچھ عرصے بعد جنگ عظیم دوم شروع ہوگئی اور انہیں جس اطالوی جہاز پر لندن جانا تھا وہ بمبئی ہی نہ پہنچ سکا۔

یوں فیض صاحب کرکٹ کے سازو سامان کی تجارت کے لیے ایجنٹ بننے سے بچ گئے۔

جنوری 1955 میں جیل سے ایلس فیض کے نام ایک خط میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان لاہور میں جاری ٹیسٹ میچ میں پاکستانی اور انڈین شائقین کے جوش و جذبے کے بارے میں لکھا :

‘غالباً لاہور شہر آج کل کرکٹ کے بخار میں مبتلا ہوگا، یہ ڈسپلیسمنٹ کی بہت اچھی مثال ہے، اس سے مراد ہے دبی ہوئی اور ناآسودہ خواہشات کی تسکین کے لیے کسی شکل کا مختلف دائرہ عمل میں سرگرم ہونا جس کا ان خواہشات سے کوئی علاقہ نہ ہو۔۔۔ کلرک نے وہ اہمیت دی ہو جو آج کل کرکٹ کو حاصل ہے۔ گویا اس نے کرکٹ کے میدان کو زندگی کے میدان کا بدل بنا لیا ہے اس لیے کہ زندگی کے محنت طلب میدان میں اس کے لیے کیف و ولولے کا کوئی سامان موجود نہیں جبکہ کرکٹ میچ کے ہر سنسنی خیز مرحلے میں وہ کلرک برابر کا شریک ہو سکتا ہے۔ خیر اگر بے چارے کو اس میں مزہ ملتا ہے تو ہم حرف گیری کیوں کریں، لیکن مجھے یہ رویہ کچھ غیر صحت مند اور قابلِ افسوس نظر آتا ہے، شاید بڑھاپے کا اثر ہے۔’

فیض کے اس گہرے تجزیے پر اظہارِ خیال کے بجائے ایلس شہر کی بدلی بدلی اس فضا کا تذکرہ کرتی ہیں جس نے انہیں مسحور کردیا تھا :

’کرکٹ کے بخار کی بابت تمہاری رائے بالکل درست ہے، لاہور جیسا دکھتا ہے ویسا ہی اصل میں ہوتا بھی ہے۔ آج کل سکھوں کے جتھے کے جھتے گلیوں میں گھوم رہے ہیں۔ لاہور کرکٹ کے بخار میں ہانپ رہا ہے۔ آج صبح بھی سکھوں کی ٹولیاں مال روڈ پر ادھر ادھر مٹر گشت کرتی نظر آرہی ہیں، جیسے وہ اپنی جنتِ گم گشتہ کو تلاش کررہے ہوں۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے ہم خود دلی کی سڑکوں پر گھوم رہے ہوں۔ شاید کہیں کوئی ایسی نشانی نظر آجائے، جس سے وہاں گزرا ہوا پرانا زمانہ یاد آجائے۔ موسم میں بہار کی آہٹ صاف سنائی دے رہی ہے۔’ (ترجمہ: سید مظہر جمیل)

فیض کو ریڈیو کمنٹری سننے اور ٹی وی پر میچ دیکھنے سے بھی شغف تھا۔

اس شوق کا خلاصہ حسن رضوی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سمٹ آیا ہے۔

حسن رضوی: ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے بارے میں آپ کا خیال؟

فیض: میچ کی کمنٹری سنتے ہیں یا میچ دیکھتے ہیں، اس سے زیادہ کوئی رائے نہیں ہے۔

عبداللہ ملک کی کتاب ‘لاؤ تو قتل نامہ مرا’ میں فیض کے خطوط بھی شامل ہیں، لندن سے اپنے نواسے یاسر کے نام خط میں لکھتے ہیں:

‘کل ٹی وی پر ٹیسٹ میچ دیکھا تھا لیکن ہماری ٹیم بہت جلد آؤٹ ہوگئی۔’

فیض کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جلد آؤٹ ہونے کا مرض دیرینہ ہے۔

فیض کے کرکٹ کے تعلق پر ایک انٹرویو بھی ہے جس میں انور مقصود نے کرکٹ کی زبان میں ان سے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ اس میں فیض نے خراب فیلڈر ہونے کا اقرار کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے بہت سے چوکے چھوڑے ہیں کیونکہ ان سے جھکا نہیں جاتا۔ ہیلمٹ پہننے سے بھی اعراض کرتے رہے کیونکہ ان کے بقول ‘آزاد فضا میں سانس لینے کا مزہ دوسرا ہے۔ دماغ پر بلاوجہ بوجھ ڈالنے سے کیا فائدہ؟’

این بشپ نے فیض سے پہلے علامہ اقبال کا نام لیا۔ ان کے کرکٹ سے تعلق کا ایک حوالہ تو ان کے نام سے منسوب اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد ہے۔ ان کی ذاتی زندگی سے کرکٹ کے بارے میں بس ایک ہی واقعہ ہمیں مل سکا ہے جسے ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے مضمون ‘اقبال ایک باپ کی حیثیت سے’ میں لکھا ہے:

‘اگر میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ باہر دالان میں کبھی کرکٹ کھیل رہا ہوتا تو ہمیں حکم ملتا کہ یہاں مت کھیلو اور ہم منہ لٹکائے وہاں سے چل دیتے، لیکن بعض اوقات وہ ہمارے کھیل میں خود بھی شریک ہو جایا کرتے۔ ہمارے ہاتھ ان کی طرف گیند پھینکتے پھینکتے تھک جاتے مگر وہ بلا تھامے ٹھپ ٹھپ کرتے رہتے۔ ایک دفعہ وہ اندر بیٹھے تھے۔ میں نے ہٹ جو لگائی تو گیند دروازے کے شیشے کو توڑتی ان کے کمرے میں جا گری، اس دن سے ہمیں کرکٹ کھیلنے کی ممانعت کردی گئی۔’

مردم خیز سیالکوٹ میں اردو کے عظیم شاعر ہی پیدا نہیں ہوئے، یہ انگریزی کے معروف شاعروں کی سرزمین بھی ہے۔ ان میں پاکستان میں انگریزی کے سب سے ممتاز شاعر توفیق رفعت اور انگریزی کے نامور فکشن نگار اور شاعر ذوالفقار غوث شامل ہیں۔

دلچسپ بات ہے ان دونوں کو کرکٹ میں بھی گہری دلچسپی تھی، جس کے احوال کا بیان کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اس میں انگریزی کے صاحبِ طرز کالم نویس خالد حسن کے سیالکوٹ پر شاندار مضمون سے استفادہ کرکے آپ کو کرکٹ کے دو نرالے کرداروں این کیو اور مرزا بہار بیگ سے بھی متعارف کروائیں گے جن کے بغیر اس شہر کی کرکٹ کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع قانون سازی کی راہ ہموار

روسی فوج کو جولائی میں 42 ہزار 800 جانی نقصان، یوکرین پر ریکارڈ گلائیڈ بموں کی بارش

نائجیریا میں تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ تک جنگل میں قید 308 افراد آزاد

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا کینسر مزید پھیل گیا، بیماری انتہائی تکلیف دہ ہے، بیٹے کا انکشاف

مون سون ہوائیں بالائی و مشرقی علاقوں میں داخل، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارش کا امکان

ویڈیو

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر