سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پرانے ٹیکس معاملات پر بعد میں نافذ ہونے والے قوانین کے تحت نئے جرمانے یا اضافی مالی ذمہ داریاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹیکس جرمانہ محض کارروائی نہیں بلکہ اضافی مالی بوجھ ہے، جس کے لیے واضح قانونی اختیار ضروری ہے۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کی جج جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس میں خدمات کو خراجِ تحسین
5 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ 30 جون 2002 تک کے ٹیکس تخمینوں پر بعد کی قانون سازی کے ذریعے نئے جرمانے عائد نہیں کیے جا سکتے۔ قانون ماضی میں نئی مالی ذمہ داری پیدا نہیں کرسکتا۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹیکس محکمے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مکمل ہوچکے پرانے ٹیکس معاملات کو بعد کی قانون سازی کے ذریعے نئی ذمہ داری کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے ’ایلی للّی کیس‘ میں طے شدہ اصول برقرار رکھتے ہوئے ’اسلامک انویسٹمنٹ بینک کیس‘ میں موجود متضاد مؤقف ختم کر دیا۔ سپریم کورٹ نے یہ اصول بھی واضح کیا کہ مساوی حیثیت کے بینچز میں اختلاف کی صورت میں معاملہ بڑے بینچ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:ساہیوال سی ٹی ڈی کیس: ورثا کی عدم موجودگی پر سپریم کورٹ کے سوالات، سماعت ملتوی
فیصلے سے ٹیکس دہندگان کو پرانے معاملات پر نئے جرمانوں اور اضافی مالی بوجھ سے اہم قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔














