پاکستان، تاریخ کے نئے موڑ پر

بدھ 12 اگست 2026
author image

محمد اشرف صدا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا اس وقت طاقت کے ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پرانی صف بندیاں بدل رہی ہیں، نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں، مشرق وسطیٰ میں جنگ اور امن کے درمیان کشمکش جاری ہے اور مسلم دنیا اپنی سلامتی اور محفوظ مستقبل کے لیے نئے اور دنیا کے لیے غیر متوقع فیصلوں کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے وقت میں مملکت خداداد پاکستان اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔ اس لیے امسال جشن آزادی یا 14 اگست کا مطلب صرف یہ یاد کرنا نہیں کہ پاکستان کیسے بنا تھا بلکہ یہ سمجھنا بھی ہے کہ پاکستان آج کہاں کھڑا ہے اور اسے کہاں پہنچنا ہے۔ اپنی آزادی سے تاحال کی جہد مسلسل، ماضی قریب کی دفاعی کامیابیوں، ابھرتی و بدلتی ہوئی سفارتی اہمیت اور تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی روابط نے پاکستان کے سامنے ایک نیا راستہ کھولا ہے۔ یہ راستہ امکانات سے بھی بھرا ہے اور امتحانات سے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج واقعی تاریخ کے ایک نئے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ قیام پاکستان قطعی طور کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا۔ کلمے کے نام پر ستائیسویں رمضان کو ملنے والی آزادی کاتب تقدیر کی طے شدہ تدبیر تھی۔ یہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں، ہجرتوں اور بے مثال جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی آزادی ہے۔ کتنے گھر اجڑے، کتنے قافلے لہو لہان ہوئے، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے اور کتنے لوگوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک آزاد وطن کا سفر اختیار کیا۔ اس لیے پاکستان ہمارے لیے محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہمارا ایمان، شہیدوں کے لہو کی امانت، بزرگوں کی ایمان افروز و دور اندیش جدوجہد کا ثمر اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، آزادی کی اصل قدر وہی قوم جان سکتی ہے جس نے غلامی کا درد محسوس کیا ہو۔

آج اس آزادی کے جشن کے موقع پر ہمیں بلاشبہ اپنے پیارے وطن پر فخر ہے۔ معرکہ حق اور آپریشن ’بنیان مرصوص‘ نے یہ ثابت کیاکہ پاکستان بدل چکا ہے، اپنی خودمختاری کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ جارحیت کا بھرپور و دندان شکن جواب بھی دیا گیا، بھارت کے رافیل سمیت کئی جنگی جہاز اور دیگر فوجی و دفاعی املاک کونشان عبرت بنایا گیا۔ قومی حوصلہ بلند ہوا اور مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے جنگ نہیں چاہی لیکن جب جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کا حق ادا کیا اور جب امن کا راستہ کھلا تو اسے اختیار کرنے میں بھی پہل کی۔ یہ صرف میدان جنگ کی کامیابی نہیں تھی بلکہ قوم اور اپنے محافظوں کے درمیان اعتماد کی بھی کامیابی تھی، پوری دنیا میں پاکستانی قوم کی عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

لیکن پاکستان کی طاقت کا دائرہ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ خارجہ محاذ پر بھی پاکستان نے گزشتہ قلیل عرصے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی جو ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری سمجھی جاتی ہے آج ایک مضبوط اور وسیع تر شراکت داری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات میں آنے والی بہتری نے پاکستان کے لیے ایک اور اہم دروازہ کھولا ہے۔ شنید ہے کہ روس سے کراچی تک ریلوے ٹریک منصوبے کا بھی جلد باقاعدہ اعلان ہو جائے۔ جو سی پیک کے بعد ایک اور گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی پاکستان نے اپنی قومی ضرورت اور مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے رابطے اور دوطرفہ مثبت تعاون کا راستہ برقرار رکھا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں نے دنیا کو بتا دیا کہ اسلام آباد اب صرف عالمی فیصلوں کا تماشائی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور عالمی امن کے لیے اپنا مؤثر و مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے بااعتماد روابط، سعودی عرب کے ساتھ گہری شراکت داری اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون نے پاکستان کے اثرورسوخ کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں ایک اہم اور تاریخی پیشرفت ہے۔ یہ ابھی کسی ممکنہ وسیع اسلامی دفاعی اتحاد کا اعلان تو نہیں لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ مسلم دنیا اپنی اجتماعی سلامتی کے بارے میں ایک نئی سوچ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اس سوچ کے مرکز میں ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت نے اسے اس نئے منظرنامے میں ایک منفرد و فیصلہ ساز مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں آنے والی بہتری بھی اسی بدلتے ہوئے علاقائی منظر نامے کا حصہ ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ تاریخ نے اس دعوے کا جواب کسی نعرے سے نہیں بلکہ نہایت ہی مناسب وقت پر ایسے دیا ہے کہ بھارتی ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ آج ڈھاکا اور اسلام آباد کے درمیان بہتر ہوتے روابط نے ثابت کیا ہے کہ کلمے کا رشتہ سب سے مضبوط ہے اور تاریخ ہمیشہ کے لیے کسی ایک سیاسی بیانیے کی غلام نہیں ہوتی۔

آج الحمداللہ! پاکستان کا بڑھتا ہوا دائرہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں۔ خلائی تحقیق میں حالیہ کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ پاکستان اپنی آئندہ نسل کو صرف دفاعی طاقت نہیں بلکہ علمی اور سائنسی طاقت بھی دینے جا رہا ہے۔ دفاع سمیت زمین کے مشاہدے کے لیے مصنوعی سیاروں کی صلاحیت زراعت، پانی، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور ملکی منصوبہ بندی میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ جو قوم خلا تک اپنی نگاہ پہنچا رہی ہے یقیناً اس قوم کے مستقبل کی منزل بھی بلند ہوگی۔

آج عالم اسلام میں پاکستان کی حیثیت کئی حوالوں سے باوقار اور منفرد ہے۔ دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت، جدید ترین میزائیل ٹیکنالوجی، تجربہ کار مسلح افواج، طاقتور فضائیہ، نیوی، اہم جغرافیائی محل وقوع اور سعودی عرب و ترکیہ، ایران سمیت اہم مسلم ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے پاکستان کو ایک ذمہ دار و طاقتور ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان اگر چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید معاشی اور سفارتی وسعت دے، خلیج کے ممالک کے ساتھ اعتماد بڑھائے اور مسلم دنیا کے ساتھ دفاع، تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو آگے لے جائے تو مستقبل قریب میں ایک وسیع تر تعاون، مشترکہ ترقی و دفاع کی نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان واضح طور پر تاریخ کے ایک نئے موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے۔

ایک طرف گزشتہ عرصے کی کامیابیاں ہیں، دوسری طرف بڑے امتحانات۔ پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا، عالمی سفارت کاری میں اپنی باوقار جگہ بنائی، بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کیا، مسلم دنیا میں اپنا اثر بڑھایا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ اب اصل ہدف یہ ہے کہ ان کامیابیوں کو مستقل قومی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔ ایسا پاکستان جو مضبوط بھی ہو، خوشحال بھی ہو، خوددار بھی ہو، اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور دنیا کے سامنے امن، انصاف اور وقار کے ساتھ اپنی بات کہہ سکے۔

مگر تاریخ کے اس نئے موڑ پر سب سے بڑا خطرہ بیرونی دشمن سے زیادہ ہماری اندرونی کمزوری بن سکتی ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دوسرے حصوں میں امن و استحکام کو درپیش چیلنجز سے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کو صرف بیرونی سرحدوں پر نہیں بلکہ اپنے اندر بھی مضبوط و متحد رہنا ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ متحد ایٹمی پاکستان کو باہر سے کمزور کرنا ممکن نہیں، اس لیے کبھی دہشتگردی، کبھی علاقائی تعصب، کبھی محرومی، کبھی نفرت اور کبھی افواہوں کے ذریعے اجتماعی قومی اعتماد کو نشانہ بنایا جا رہاہے۔

ہمیں دشمن کی اس جنگ کو سمجھنا ہوگا، ہر اختلاف دشمن کی سازش نہیں اور ہر تنقید غداری نہیں۔ ایک مضبوط ریاست اختلاف کو برداشت کرتی ہے اور مکالمے کو جگہ دیتی ہے، لیکن جھوٹی خبر کو سچ بنا کر پھیلانا، افواہ کو حقیقت سمجھ لینا اور دشمن کے پروپیگنڈے کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا بھی قومی و ملکی مفادات کے صریحاً خلاف ہے۔ آج پاکستان کے خلاف جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی جا رہی۔ ہمارے ذہن، ہماری رائے، ہمارا باہمی اعتماد اور ہماری قومی یکجہتی بھی اس جنگ کا میدان ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں وفاقی حکومت، مسلح افواج اور ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ قومی اعتماد اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن پاکستان کی حقیقی طاقت اس وقت مکمل ہوگی جب مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، اچھی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اورملی و قومی اتحاد بھی ہماری اولین ترجیحات بنیں گے۔ مضبوط پاکستان کے لیے مضبوط فوج کے ساتھ مضبوط معیشت، مضبوط ادارے، اچھی حکمرانی اور متحد قوم بھی ضروری ہیں۔

تاریخ کے اس نئے موڑ پر پاکستانی قوم کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ ہمیں افواہوں کے بجائے تحقیق پر یقین کرنا ہوگا، اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دینا ہوگا، اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع سے آراستہ کرنا ہوگا، معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا، خلق خدا کی آواز کو تحمل سے سننا ہوگا اور پاکستان کی ریاستی خودمختاری کو اپنی اجتماعی ترجیح بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی حفاظت صرف سرحد پر کھڑے سپاہی کی ذمہ داری نہیں، طالب علم کی محنت بھی دفاع ہے، استاد کی دیانت بھی دفاع ہے، کسان کی پیداوار بھی دفاع ہے، سائنس دان کی تحقیق بھی دفاع ہے، کاروباری شخص کی ایمانداری بھی دفاع ہے، صحافی کی مثبت و ذمہ دارانہ صحافت بھی دفاع ہے، عالم کی عالمانہ تبلیغ بھی دفاع ہے اور ایک عام شہری کا جھوٹی خبر آگے بڑھانے سے انکار بھی پاکستان کی حفاظت ہے۔

اس یوم آزادی پر ہمیں صرف جشن نہیں منانا، اپنے عہد کی تجدید کرنی ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ پاکستان کی آزادی کو صرف محفوظ نہیں رکھیں گے بلکہ اسے طاقت، خوشحالی، علم، انصاف اور وقار کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ ہم اپنے شہیدوں کی قربانی کو اپنی طاقت بنائیں گے، اپنے نوجوانوں کو اپنی امید بنائیں گے، اپنی مسلح افواج اورپشت پر کھڑی متحد قوم کو اپنی دفاعی قوت کی آخری لکیر سمجھیں گے اور اپنی قومی یکجہتی کو اپنی سب سے بڑی ڈھال بنائیں گے۔ دشمن ہماری سرحد پر آئے گا تو ہم متحد ہو کر دفاع کریں گے، ہم اپنی معیشت کومضبوط کریں گے، کوئی ہماری سوچوں میں زہر گھولنے کی کوشش کرے تو ہم اپنے شعور سے اس کا راستہ روکیں گے اور جو قوت ہمیں اندر سے تقسیم کرنا چاہے گی اسے اپنے باہمی اتحاد سے دندان شکن جواب دیں گے۔

پاکستان تاریخ کے نئے موڑ پر کھڑا ہے اور یہ موڑ کسی خوف کا مقام نہیں بلکہ ایک نئے عہد کا مقام ہے۔ ہمیں اس موڑ سے پوری قوت اور پوری شان کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ پاکستان صرف ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک متحد، دلیر، باوقار اور ناقابل تسخیر قوم ہے، یہ وطن صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، صرف ایک ریاست نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کا مشترکہ خواب ہے۔ ہمیں آزادی تحفے میں نہیں ملی تھی، اسے عظیم قربانی دے کر حاصل کیا تھا، یہ وطن ہمارا ایمان ہے، ہماری عزت ہے، ہماری شناخت ہے، ہماری امید ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

آئیے اس یوم آزادی پر ہم سب اپنے دل سے ایک عہد کریں کہ ہم پاکستان کے لیے صرف نعرہ لگانے والے نہیں بلکہ پاکستان کو بنانے والے لوگ بنیں گے۔ جہاں ہماری ضرورت ہوگی وہاں ہم اپنا کردار ادا کریں گے، جہاں جھوٹ ہوگا وہاں سچ کا ساتھ دیں گے، جہاں نفرت ہوگی وہاں اتحاد کی آواز بنیں گے، جہاں مایوسی ہوگی وہاں امید کا دیا جلائیں گے اور جہاں پاکستان کے مفاد کا سوال ہوگا وہاں اپنی ذات، اپنے اختلافات اور اپنے مفاد سے پہلے پاکستان کو رکھیں گے۔ یہی ایک زندہ قوم کی پہچان ہے، یہی آزادی کا حق ہے، یہی اجداد کی قربانیوں کا قرض ہے اور یہی ان شہیدوں کے لہو کا تقاضا ہے جنہوں نے ہمیں ایک آزاد وطن عطا کیا۔

’پاکستان آج تاریخ کے نئے موڑ پر ہے۔ آئیے ہم اس موڑ کو اپنی منزل کا آغاز بنا دیں۔‘

اہل وطن کو جشن آزادی مبارک

پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp