عالمی منڈی میں مسلسل اضافے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی، جس کی بڑی وجہ 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب کے حوالے سے پیشگوئی میں کمی اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر کمی کے بعد 87.69 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 1.30 ڈالر کم ہوکر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
🚨𝗢𝗜𝗟 𝗣𝗥𝗜𝗖𝗘𝗦 𝗦𝗟𝗜𝗗𝗘 𝗧𝗢 $𝟴𝟳.𝟴𝟲 & $𝟳𝟴.𝟵𝟰 𝗧𝗛𝗜𝗦 𝗪𝗘𝗘𝗞!
Brent crude fell to $87.86 per barrel for the week ending Aug 7.
West Texas Intermediate dropped to $78.94 per barrel in the same period.
Data released by the St. Louis Fed shows the downward… pic.twitter.com/hXGbas4PGn
— Rahul K (@iamrahulinc) August 13, 2026
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی منڈی کو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی طلب کے کمزور رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ مارکیٹ کے بنیادی عوامل، خصوصاً طلب اور رسد کے توازن، کی جانب مبذول کرائی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی پہلے ہی عالمی منڈی کو متاثر کر رہی ہے، تاہم اگر اس آبی راستے سے آمدورفت بتدریج بحال ہوتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے 13 اگست کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کردیا
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے اپنی ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کے تخمینے کو کم کر دیا ہے۔ اوپیک کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ گزشتہ اندازے کے مقابلے میں کم کیا گیا ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر طلب، رسد، پیداوار اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سے ہوتا ہے۔ اوپیک کی ماہانہ رپورٹ انہی عوامل کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے اور عالمی تیل کی طلب، رسد اور مارکیٹ کے توازن کے حوالے سے اہم اعداد و شمار فراہم کرتی ہے۔
ایران کے خلاف جاری جنگ اور خطے میں بحری راستوں کو درپیش خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ عرصے کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ہرمز سے 2026 کی دوسری سہ ماہی میں تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اوسطاً 49 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں 2 کروڑ 16 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
Brent futures settled up 7 cents at US$88.98 a barrel.https://t.co/FMAo6O9h3i
— The Star (@staronline) August 13, 2026
رپورٹ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ بحری آمدورفت میں بہتری اور تیل کی پیداوار کی بحالی سے قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کی رفتار، تیل کی طلب کے نئے تخمینے، اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک کی پیداواری پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔














