مشرقی انڈونیشیا میں ہفتے کی صبح 7.7 شدت کے خوفناک زلزلے اور درجنوں آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی اور لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کے بعد جاری کردہ سونامی الرٹ بعد میں واپس لے لیا گیا۔
زلزلے سے درجنوں عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جبکہ شدید لینڈسلائیڈنگ اور مواصلاتی نظام معطل ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
Horrifying footage from an Indonesian port
The ground is literally shaking, people are panicking and running, and part of the port structure collapses near the water.
At that moment, the region was experiencing an earthquake with a magnitude of up to 7.7. pic.twitter.com/sKSARCkJE0
— 𝓶𝓪𝓻𝓲𝓪𝓵𝓪𝓻𝓼𝓼𝓸𝓷201 (@marialarsson201) August 15, 2026
تباہی کے مناظر اور جانی نقصان
قومی ڈیزاسٹر مٹیگیشن ایجنسی (بی این پی بی) کے مطابق زلزلے کے باعث سب سے زیادہ جانی نقصان فلورس آئی لینڈ کے مرکزی شہر ’مومیرے‘ میں ہوا، جہاں پورٹ کی عمارتیں گرنے سے 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کولمبیا میں 7.4 شدت کا شدید زلزلہ، 132 افراد ہلاک
مشرقی نوسا تینگارا کے گورنر ایمانوئل ملکیادیس نے بتایا کہ متعدد افراد اس وقت جاں بحق ہوئے جب وہ اپنے گھروں میں سو رہے تھے اور عمارتیں ان پر آن گریں۔ تباہی کے باعث مقامی اسپتالوں کے مریضوں کو کھلے آسمان تلے منتقل کرنا پڑا۔
لینڈسلائیڈنگ اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ
زلزلے کے مرکز کے سب سے قریب واقع علاقے ‘ناگیکیو’ کا دیگر علاقوں سے زمینی و مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔
Horrifying footage from an Indonesian port
The ground is literally shaking, people are panicking and running, and part of the port structure collapses near the water.
At that moment, the region was experiencing an earthquake with a magnitude of up to 7.7. pic.twitter.com/sKSARCkJE0
— 𝓶𝓪𝓻𝓲𝓪𝓵𝓪𝓻𝓼𝓼𝓸𝓷201 (@marialarsson201) August 15, 2026
سڑکوں پر لینڈسلائیڈنگ کے باعث ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ناگیکیو میں بجلی اور موبائل نیٹ ورک بند ہے، جبکہ 2000 کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 157 مکانات مکمل طور پر تباہ، 87 اسکول، 18 طبی مراکز اور متعدد عبادت گاہیں و سرکاری دفاتر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
مقامی شہریوں کی آپ بیتی
زلزلے کے دھچکے مشرقی نوسا تینگارا، مغرب نوسا تینگارا اور جنوبی سولاویزی تک محسوس کیے گئے۔ طالبورا گاؤں کی 51 سالہ رہائشی ‘نونا’ نے بتایا کہ ‘زلزلہ انتہائی شدید تھا، ہم 13 لوگ گھر کے اندر موجود تھے اور سب اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگے۔’
مزید پڑھیں:کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، متعدد ہلاکتیں، کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر
اسی طرح پورٹ کے قریب رہنے والی 37 سالہ ‘سیتی سلفیہ بیرا’ کا کہنا تھا کہ ‘حالات ابھی بہتر نہیں ہیں اور مزید آفٹر شاکس کے ڈر سے ہم گھروں کو واپس جانے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔’
Powerful 7.7-Magnitude Earthquake strikes off Indonesia’s coast, toppling buildings and killing at least 5https://t.co/3QZrwZTHP3 pic.twitter.com/rH7M5tq09F
— The QNS 24×7 (@Qns24x7) August 15, 2026
‘پیسیفک رنگ آف فائر’ کا دائم الخوف
انڈونیشیا کے جیو فزکس ادارے (بی ایم کے جی ) کے مطابق پہلا زلزلہ صبح 4.58 بجے زمین میں 15 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔
یہ علاقہ زلزلوں کے اعتبار سے انتہائی حساس ہے، جہاں 1992 میں بھی 7.5 شدت کے زلزلے نے شدید تباہی مچائی تھی۔
انڈونیشیا زمین کی انڈو-آسٹریلین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے جوڑ ‘پیسیفک رنگ آف فائر’ پر واقع ہے، جس کے باعث یہاں زلزلے اور آتش فشاں کے واقعات عام ہیں۔
اس سے قبل 2018 میں سولاویزی کے شہر ‘پالو’ میں 7.5 شدت کے زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں 4000 سے زیادہ افراد جان بحق ہو گئے تھے۔














