انڈونیشیا میں ہفتے کی صبح آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ماؤمیری جزیرہ فلوریس کا مرکزی شہر ہے، جہاں زلزلے کے بعد لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے سڑکوں کی جانب بھاگتے دیکھا گیا۔ حکام کی جانب سے ممکنہ سونامی کے پیش نظر وارننگ بھی جاری کی گئی تھی، جسے بعد ازاں ختم کردیا گیا۔
بندرگاہ پر عمارت کا ملبہ مسافروں پر آ گرا
زلزلے کے بعد ماؤمیری کی بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر ان مسافروں پر جا گرے جو بین الجزیراتی فیری پر سوار ہونے کے منتظر تھے۔
رپورٹس کے مطابق جہاز تک جانے والا راستہ منہدم ہونے کے نتیجے میں بعض افراد سمندر میں بھی جا گرے۔ سونامی کی وارننگ جاری ہونے کے بعد بڑی تعداد میں شہری موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر ساحلی علاقے سے اندرونِ ملک کی جانب جاتے دکھائی دیے۔
دوسری جانب سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں ماؤمیری پہنچ گئی ہیں اور متاثرہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ممکنہ افراد کو تلاش کرنے اور انہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں تبدیلی
انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی، جسے بی این پی بی کہا جاتا ہے، نے ابتدائی طور پر زلزلے کے نتیجے میں 2 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں زمینی سطح پر معلومات کی تصدیق کے بعد اعداد و شمار میں تبدیلی کردی گئی۔
بی این پی بی کے مطابق تازہ تصدیق شدہ معلومات میں ایک شخص کی ہلاکت اور 4 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ادارے نے بیان میں کہاکہ زمین پر موجود اہلکاروں کی جانب سے معلومات کی تصدیق اور جانچ پڑتال کے بعد ہلاکتوں کا ڈیٹا تبدیل کرکے ایک مصدقہ ہلاکت کردیا گیا۔
زلزلے کے بعد شدید آفٹر شاکس
انڈونیشیا کی محکمہ موسمیات، آب و ہوا اور جیو فزکس ایجنسی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے سے کچھ دیر پہلے مشرقی نوسا ٹنگارہ کے فلوریس ریجن میں آیا۔ زلزلے کی گہرائی 15 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کے بعد اسی علاقے میں کئی شدید آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں ایک کی شدت 6.1 ریکارڈ ہوئی۔
حکام نے شہریوں کو پرسکون رہنے اور ساحلی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ لوگوں کو خاص طور پر ایسی عمارتوں میں داخل نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے جو زلزلے کے باعث پہلے ہی دراڑوں یا ساختی نقصان کا شکار ہوچکی ہیں۔
متاثرہ علاقے میں نقصانات کا جائزہ جاری
انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق اس وقت اولین ترجیح شہریوں کی حفاظت اور آفٹر شاکس سمیت دیگر ممکنہ خطرات کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کو روکنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں نقصانات اور جانی نقصان کا فوری جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم مکمل صورتحال سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ یہ خطہ نسبتاً دور دراز اور پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔














