بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر سمیت ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں یوم سیاہ کی کال

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت آج 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات منا رہا ہے، تاہم دوسری جانب کشمیری و سکھ برادری اور ناگالینڈ، آسام و منی پور میں بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اپیلیں سامنے آئی ہیں۔ مختلف گروہوں کی جانب سے بھارتی ریاستی پالیسیوں کے خلاف 15 اگست کو احتجاج اور یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مختلف علیحدگی پسند تنظیموں اور گروہوں کی جانب سے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 15 اگست کو سیاہ پرچم لہرا کر اسے یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔

ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان کے دیرینہ علیحدگی پسند مطالبات اور حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث وہ بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

آسام کے یونائیٹڈ نیشنل فرنٹ آف آسام، ناگالینڈ کی نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ اور منی پور کی الائنس فار سوشلسٹ یونٹی سمیت مختلف گروہوں نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اپیل کی ہے۔

ان تنظیموں نے اپنے حامیوں اور عوام سے سیاہ پرچم لہرانے اور 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا کہا ہے۔

احتجاج اور ممکنہ مظاہروں کی کالز کے باعث بھارت نے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی کے اقدامات مزید سخت کردیے ہیں اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

مقبوضہ کشمیر سمیت ان علاقوں میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر احتجاج اور تقریبات کے بائیکاٹ کی اپیلیں طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسند مطالبات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تناظر میں کی جاتی رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp