امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے درمیان گزشتہ برس سامنے آنے والے شدید سیاسی اور ذاتی اختلافات کے بعد ایک بار پھر رابطے بحال ہونے لگے ہیں۔ دونوں شخصیات کے درمیان اگرچہ سابقہ نوعیت کی قریبی دوستی بحال ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم سیاسی سطح پر تعاون اور باہمی رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور مسک اب قریباً ہر ماہ ایک مرتبہ گفتگو کرتے ہیں، جبکہ ایلون مسک نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی مدد کے لیے کم از کم 100 ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ایلون مسک کی حمایت میں سامنے آگئے، نئی برینڈڈ ٹیسلا گاڑی خریدنے کا اعلان
’چین کے سفر نے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کی‘
رپورٹس کے مطابق رواں سال مئی میں ایلون مسک کا صدر ٹرمپ کے ہمراہ سرکاری طیارے میں چین کا سفر دونوں کے تعلقات میں بہتری کی اہم علامت قرار دیا گیا۔
سفر کے دوران مسک نے امریکا میں نئی فیکٹریاں قائم کرنے سے متعلق اپنے منصوبوں پر ٹرمپ سے گفتگو کی، جبکہ صدر ٹرمپ نے خلائی پروگرام اور مسک کے بیٹے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔
اسی دوران ایلون مسک نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔
ریپبلکنز کے لیے 100 ملین ڈالر کی مالی مدد
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایلون مسک وسط مدتی انتخابات کے دوران ٹرمپ کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپ کو کم از کم 100 ملین ڈالر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ رقم اہم ریاستوں میں ریپبلکن ووٹرز کو بڑی تعداد میں پولنگ کے لیے متحرک کرنے کی مہم پر خرچ کی جائےگی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور مسک کے درمیان تعلقات اب ماضی کے مقابلے میں بہتر ہیں، تاہم صدر ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں سے یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں نہیں لگتا کہ دونوں کے درمیان سابقہ جیسی قربت دوبارہ قائم ہو سکے گی۔
مسک کا سیاست میں محدود کردار کا اشارہ
ایلون مسک اس مرتبہ 2024 کے صدارتی انتخابات کی طرح سیاست میں انتہائی نمایاں کردار ادا کرنے سے گریز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ گزشتہ سال خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ سیاست میں ضرورت سے زیادہ شامل ہوگئے تھے اور اس معاملے میں ایک حد سے آگے نکل گئے تھے۔
اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور مسک کی سابقہ سیاسی شراکت مکمل طور پر اپنی پرانی شکل میں واپس آنے کے بجائے مفاہمت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں ذاتی قربت کے مقابلے میں سیاسی مفادات اور ایک دوسرے کی ضرورت زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
2024 کے انتخابات میں مسک نے ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی
واضح رہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ایلون مسک صدر ٹرمپ کے بڑے سیاسی حامیوں میں شامل ہوگئے تھے۔
انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے لیے قریباً 300 ملین ڈالر خرچ کیے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس میں بھی اہم کردار ادا کیا، تاہم مختلف حکومتی اداروں میں مسک کی مداخلت اور ان کے جارحانہ انداز پر ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اعلیٰ حکام ناراض ہوگئے تھے۔
جون میں اختلافات کھل کر سامنے آئے
دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات جون میں اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے خلاف سخت بیانات دیے۔ مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ کا نام جیفری ایپسٹین کی تحقیقاتی فائلوں میں شامل ہے اور اسی وجہ سے یہ فائلیں منظر عام پر نہیں لائی جا رہیں۔
جواباً صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کے ساتھ سرکاری معاہدے ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ مسک ایک بڑے ٹیکس اور اخراجات کے قانون کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ اس قانون کے تحت برقی گاڑیوں کے لیے مراعات ختم کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کی کمپنی ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
یوں شدید اختلافات کے بعد دونوں کے درمیان رابطوں کی بحالی اگرچہ سابقہ سیاسی قربت کی مکمل واپسی نہیں، تاہم امریکی سیاست میں ٹرمپ اور مسک کے درمیان مفاہمت اور محدود سیاسی تعاون کے نئے باب کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔













