پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں ایک بار پھر تبدیلی کی تجویز سامنے آگئی ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو نئی تجویز ارسال کرتے ہوئے روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کے موجودہ نظام کے بجائے سابقہ 7 یا 15 روزہ نظام بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں نسبتاً استحکام کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کے بجائے مقررہ وقفے سے طے کیے جائیں۔ ڈیلرز کی جانب سے موجودہ روزانہ قیمتوں کے نظام پر پہلے بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے وزیراعظم کو نئی تجویز بھجوائی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ تجویز کا مقصد ایسا نظام دوبارہ نافذ کرنا ہے جس کے تحت عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا ایک مخصوص مدت کے بعد جائزہ لیا جائے اور اسی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے۔
ڈیلرز مارجن میں بھی اضافہ منظور
دوسری جانب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ڈیلرز مارجن میں اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈیلرز مارجن میں 15 روپے 51 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصلے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں فی لیٹر ایک روپے 34 پیسے اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں دونوں مصنوعات پر ڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسے سے بڑھ کر 9 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہوجائے گا۔
قیمتوں پر 2 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافی بوجھ
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ڈیلرز مارجن میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 2 روپے 68 پیسے فی لیٹر اضافی بوجھ شامل ہوگا۔
یوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اس وقت دو اہم معاملات زیر غور ہیں۔
ایک جانب وزیراعظم کے سامنے روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کا موجودہ طریقہ کار ختم کرکے 7 یا 15 روز بعد قیمتیں مقرر کرنے کا سابقہ نظام بحال کرنے کی تجویز موجود ہے، جبکہ دوسری جانب ڈیلرز مارجن میں اضافے کی منظوری بھی دی جاچکی ہے۔
روزانہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ختم ہونے کی توقع
اگر وزیراعظم کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے پرانے نظام کی تجویز منظور کرلی جاتی ہے تو صارفین کو عالمی مارکیٹ میں روزانہ ہونے والی معمولی تبدیلیوں کے بجائے مقررہ مدت کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا سامنا ہوگا۔
اس طرح روزانہ بنیادوں پر قیمتوں میں ہونے والا اتار چڑھاؤ ختم ہونے کی توقع ہے اور پیٹرول و ڈیزل کے نرخ 7 یا 15 روزہ وقفے کے بعد عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق تبدیل کیے جاسکیں گے۔













