اسرائیل کا مصنوعی ذہانت پر بھی حملہ، ’چیٹ جی پی ٹی‘ پر گرتی ساکھ بچانے کے لیے من پسند بیانیہ مسلط کرنے کا انکشاف

اتوار 16 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف امریکی جریدے پولیٹیکو نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا میں اپنی بری طرح گرتی ہوئی ساکھ اور مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم’چیٹ جی پی ٹی‘ اور دیگر ’اے آئی‘ ماڈلز میں غزہ سے متعلق اسرائیلی فوج کے حق میں من پسند جوابات شامل کروانے کی ایک منظم مہم شروع کر دی ہے۔

جریدے کے مطابق امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات سے ثابت ہوا ہے کہ اس مقصد کے لیے اسرائیل نے لاکھوں ڈالرز کے فنڈز اور تعلقاتِ عامہ (پی آر) کی غیر ملکی فرموں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کوشش کا مرکز ‘ہینوور انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی’ نامی ویب سائٹ ہے، جہاں یہود مخالف نفرت، جغرافیائی سیاست اور اسرائیل سے متعلق مختلف موضوعات پر رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلیوں کے مسیحیوں پر حملے اور ہراسانی کے واقعات 3 گنا بڑھ گئے

یہ منصوبہ فرانسیسی تشہیری و تعلقات عامہ کی کمپنی ‘ہاواس میڈیا’ کے ذریعے ترتیب دیا گیا، جبکہ اس کے ذیلی ادارے ‘پیرو انکارپوریٹڈ’ نے بھی اس میں کردار ادا کیا۔

یہ سرگرمیاں اسرائیل کی سرکاری ‘اسرائیلی حکومتی اشتہاری ایجنسی’، جسے ‘لاپام’ کہا جاتا ہے، کی جانب سے امریکی قانون کے تحت رجسٹرڈ غیرملکی اثرانداز سرگرمیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے پی آر ایجنسی ’ہاواس میڈیا‘ اور اشتہاری ایجنسی ’پائرو‘ کے ذریعے ’ہینوور انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی نامی ایک نام نہاد ویب سائٹ بھی قائم کر لی ہے۔

اس ویب سائٹ پر اسرائیل فلسطین تنازع اور جنگی جرائم سے متعلق سوالیہ انداز میں ایسے مضامین شائع کیے گئے جو ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور ’پرپلیکسٹی‘جیسے اے آئی الگورتھمز کو آسانی سے گرفت میں لا سکیں۔

سیئٹل کی اے آئی اسٹارٹ اپ ’ریس‘ کے تکنیکی تعاون سے تیار کردہ اس پلیٹ فارم کا مقصد یہ تھا کہ جب صارفین غیر جانبدارانہ سوالات کریں تو اے آئی ماڈلز اسرائیل کے حق میں مواد کو بطورِ حوالہ پیش کریں۔

ہینوور انسٹی ٹیوٹ اپنی سرگرمیوں کو ‘دستاویزی، اعلانیہ نہیں’ قرار دیتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا کام خالصتاً تحقیقی اور علمی نوعیت کا ہے۔

مزید پڑھیں:غزہ میں کینسر کے مریضوں کی اموات میں ہوشربا اضافہ، اسرائیلی پابندیاں جان لیوا بن گئیں

تاہم پولیٹیکو نے امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی ‘غیرملکی ایجنٹوں کی رجسٹریشن کے قانون’ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک درجن سے زائد رپورٹس کا تعلق ایسی تشہیری مہم سے سامنے آیا ہے جس میں امریکی عوام کو اسرائیل کے بارے میں ‘حقائق اور ذرائع پر مبنی معلومات’ فراہم کرنے کے لیے مواد تیار اور تقسیم کیا گیا۔

ویب سائٹ پر بعض رپورٹس سوالیہ انداز میں شائع کی گئیں، جن میں ‘کیا فلسطینی قیدیوں پر تشدد جنگی جرم ہے؟’ اور ‘اسرائیل فلسطین تنازع میں جارح کون ہے؟’ جیسے عنوانات شامل ہیں۔

پولیٹیکو کے مطابق اس انداز نے یہ سوال پیدا کیا کہ آیا یہ مواد اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا کہ بڑے زبان ماڈلز اسے تلاش کرکے اپنے جوابات میں بطور حوالہ استعمال کریں۔

واضح رہے کہ پیو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی اب اسرائیل کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ 65 فیصد افراد کو وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی پالیسیوں پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔

کانگریس میں بھی اسرائیل کی ‘3.3’ ارب ڈالر کی امداد روکنے کے لیے 100 سے زیادہ ڈیموکریٹس نے ووٹ دیا۔

سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی نیتن یاہو سے سخت نالاں ہیں اور رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سیز فائر اور 15 نکات پر مشتمل پریس پلان کی مخالفت پر نیتن یاہو کو ’اپنا ہی سب سے بڑا دشمن‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کے اس فعل نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ریاستیں اور سیاسی گروہ صرف روایتی ذرائع ابلاغ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے معلوماتی ماحول پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں ہوگی

تاہم دستیاب رپورٹنگ کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے چیٹ جی پی ٹی کے جوابات کو براہ راست کنٹرول کرلیا ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات بنیادی طور پر ایسے مواد کی تیاری، آن لائن تشہیر اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی جانب سے اس مواد کے ممکنہ حوالہ بننے کی کوششوں سے متعلق ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ لاکھوں افراد اب سیاسی تنازعات، جنگوں اور عالمی خبروں سے متعلق سوالات کے لیے مصنوعی ذہانت کے گفت و شنید پر مبنی پروگراموں سے رجوع کرتے ہیں، جس کے باعث ان نظاموں میں شامل ہونے والی معلومات اور ان کے ذرائع کی شفافیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

‘7’ اکتوبر ‘2023’ کے بعد سے غصے، جنگی تباہی اور غزہ پر مسلسل حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اسرائیل کا امیج شدید متاثر ہوا ہے۔

امریکی عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے غم و غصے کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی میڈیا مہمات کے بعد اب اے آئی ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنانے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

 وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس سے قبل بھی اسرائیل 46.5 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ پروپیگنڈا مواد امریکا میں پھیلانے کا مرتکب ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp