رنگ آف فائر: زلزلوں اور آتش فشاں کا خطرناک خطہ

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بحرالکاہل کے گرد پھیلا ہوا ’رنگ آف فائر‘ دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہ تقریباً 25 ہزار میل طویل آتش فشاں اور زلزلہ خیز مقامات پر مشتمل پٹی ہے جو بحرالکاہل کے گرد دائرہ بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 90 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں، جبکہ دنیا کے تقریباً 75 فیصد آتش فشاں بھی اسی علاقے میں واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غیر فعال آتش فشاں کے دھانے پر آباد سعودی گاؤں میں خاص کیا ہے؟

رنگ آف فائر کو ’بحرالکاہل کے گرد پٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ متعدد ارضیاتی پلیٹوں کے باہمی ملاپ کے مقامات پر مشتمل ہے۔ یہ پلیٹیں مسلسل ایک دوسرے سے ٹکراتی، ایک دوسرے کے قریب سے گزرتی یا ایک پلیٹ دوسری کے نیچے دھنس رہی ہوتی ہیں۔

ارضیاتی پلیٹوں کی اس مسلسل حرکت کے نتیجے میں سمندر کی گہری کھائیاں، آتش فشانی دھماکے اور زلزلے جنم لیتے ہیں۔ ان پلیٹوں کے ملنے کے مقامات کو فالٹ لائنز کہا جاتا ہے۔

دنیا کی سب سے گہری سمندری کھائی ’ماریانا ٹرینچ‘ بھی اسی خطے میں واقع ہے، جو گوام کے مشرق میں موجود ہے۔ اس کی گہرائی تقریباً 7 میل ہے اور یہ اس وقت وجود میں آئی جب ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کیلیفورنیا: ایسی آبشار جو شعلے اگلتے آتش فشاں کا منظر پیش کرتی ہے

رنگ آف فائر میں آنے والے زلزلوں میں 1960 کا چلی کا ’والڈیویا زلزلہ‘ بھی شامل ہے، جس کی شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی اور اسے اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی خطے میں انڈونیشیا کا ’ماؤنٹ تمبورا‘ بھی واقع ہے، جو 1815 میں پھٹا تھا۔ اسے ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے بڑا آتش فشانی دھماکا قرار دیا جاتا ہے۔

رنگ آف فائر تقریباً 25 ہزار میل طویل ہے اور اس کی حدود میں 15 سے زائد ممالک شامل ہیں۔ اس خطے کی حدود کے حوالے سے ماہرین میں مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا، تاہم اس کی زیادہ تر ارضیاتی سرگرمی بیرونی حدود پر ہوتی ہے، جبکہ اندرونی حصے میں نسبتاً کم سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp