فلکیاتی نظاروں کے شوقین تیار ہوجائیں، 27 اگست کو منفرد منظر ہوگا

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگست کے اختتام پر آسمان پر ایک شاندار فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب 2026 کا جزوی چاند گرہن ہوگا۔ اس دوران چاند کا بڑا حصہ سرخی مائل نارنجی رنگ اختیار کرلے گا، جس کے باعث یہ منظر خونیں چاند جیسا دکھائی دے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خانہ کعبہ کے عین اوپر سورج کا ظہور، قبلہ رخ درست کرنے کا نادر فلکیاتی منظر

ماہرین فلکیات کے مطابق چاند کی سطح کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے سائے سے گزرے گا۔ اگرچہ یہ مکمل چاند گرہن نہیں ہوگا، تاہم چاند کے بڑے حصے کے زمین کے سائے میں آنے کی وجہ سے منظر کافی نمایاں ہوگا۔

چاند گرہن کیسے ہوتا ہے؟

چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے اور زمین کا سایہ چاند کی سطح پر پڑتا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Museum of Science (@museumofscience)

سورج کی روشنی جب زمین کے کرۂ ہوائی سے گزرتی ہے تو نیلی روشنی زیادہ بکھر جاتی ہے جبکہ سرخ اور نارنجی روشنی مڑ کر چاند تک پہنچتی ہے، جس کے باعث چاند سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

چاند گرہن کب عروج پر ہوگا؟

جزوی چاند گرہن 28 اگست کو تقریباً 4 بج کر 13 منٹ عالمی وقت کے مطابق اپنے عروج پر ہوگا۔ اس وقت چاند کا تقریباً 96 فیصد حصہ زمین کے سائے میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟

شمالی امریکا کے مختلف علاقوں میں چاند گرہن اپنے عروج پر مقامی وقت کے مطابق مختلف اوقات میں ہوگا۔ نیویارک اور ٹورنٹو میں یہ 28 اگست کی رات 12 بج کر 12 منٹ، شکاگو، ہیوسٹن اور ونی پیگ میں 27 اگست کی رات 11 بج کر 12 منٹ، ڈینور اور کیلگری میں رات 10 بج کر 12 منٹ جبکہ لاس اینجلس میں رات 9 بج کر 12 منٹ پر عروج پر ہوگا۔

چاند گرہن کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟

چاند گرہن کو عام آنکھ سے دیکھنا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے خصوصی چشموں یا حفاظتی فلٹرز کی ضرورت نہیں ہوتی۔

زیادہ واضح منظر دیکھنے کے لیے دوربین یا چھوٹی فلکیاتی دوربین استعمال کی جاسکتی ہے، جس سے زمین کے سائے کو چاند کی سطح پر آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp