سپریم کورٹ نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں ملزم عبدالرزاق کی بریت کی اپیل منظور کرتے ہوئے عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، جس میں عدالت نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان زمین کا تنازع چل رہا تھا، جبکہ شکایت کنندہ سمیت کوئی بھی شخص اغوا کے واقعے کا عینی شاہد نہیں تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم سے ہونے والی 3 لاکھ روپے کی ریکوری بھی مشکوک ہے۔ تاوان کے نام پر برآمد کی گئی رقم پر کسی قسم کی کوئی نشانی موجود نہیں تھی جس سے اسے مقدمے سے منسلک کیا جاسکے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف مقدمہ شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے اسے شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کے اغوا اور قتل کا مقدمہ، سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزمان کو بری کردیا
پولیس نے 2014 میں نارووال میں ملزمان کے خلاف اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے میں چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے تین ملزمان کو بری کردیا تھا، تاہم عبدالرزاق کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی تھی۔
اب سپریم کورٹ نے عبدالرزاق کی بریت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی اور اسے بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔













