واٹس ایپ نے کاروباری اداروں کے لیے پیغام رسانی کے نظام میں اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت یکم اکتوبر 2026 سے کاروباری اداروں کو صارفین کے جوابات کے لیے بھی فیس ادا کرنا ہوگی۔
یہ تبدیلی ان کاروباری اداروں پر لاگو ہوگی جو بڑے پیمانے پر صارفین سے رابطے کے لیے واٹس ایپ بزنس پلیٹ فارم یا اس کے برقی نظام کا استعمال کرتے ہیں۔ عام صارفین اور واٹس ایپ بزنس کی عام درخواست استعمال کرنے والے چھوٹے کاروباری ادارے اس تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کا نیا فیچر، صارفین ایک کلک سے اے آئی اسٹیکرز واٹس ایپ پر منتقل کرسکیں گے
نئے نظام کے تحت کاروباری اداروں سے وصول کی جانے والی فیس پیغام کی ترسیل، صارف کے ملک اور پیغام کی نوعیت کے حساب سے مقرر کی جائے گی۔ مختلف ممالک میں کاروباری اور تشہیری پیغامات کے لیے الگ الگ نرخ ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق تشہیری پیغامات کی فیس کاروباری نوعیت کے پیغامات کے مقابلے میں زیادہ ہوگی، جس سے واٹس ایپ کے ذریعے بڑے پیمانے پر صارفین کو پیغامات بھیجنے والی کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
نئی پالیسی سے ان کمپنیوں پر خاص اثر پڑنے کا امکان ہے جو صارفین کی خدمت، ادائیگی کی تصدیق، شناخت کی تصدیق اور آرڈر سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے واٹس ایپ استعمال کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کے گروپ چیٹس مزید جدید، صارفین کے لیے 3 نئے فیچرز متعارف
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل صارف کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد 24 گھنٹے کی مدت کے دوران کاروباری اداروں کی جانب سے خدمات سے متعلق جوابات پر فیس عائد نہیں کی جاتی تھی، تاہم نئے نظام میں فیس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جارہا ہے۔
یہ تبدیلی واٹس ایپ کی جانب سے کاروباری اداروں کے لیے فی پیغام فیس کے نظام کو مزید وسعت دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ واٹس ایپ نے پہلے کاروباری اداروں کی جانب سے بھیجے جانے والے مخصوص پیغامات پر فی پیغام بنیاد پر فیس وصول کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا۔
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی سے واٹس ایپ کے ذریعے صارفین سے بڑے پیمانے پر رابطہ رکھنے والی کمپنیوں کے لیے پیغام رسانی کی لاگت بڑھ سکتی ہے، بالخصوص ان اداروں کے لیے جو روزانہ لاکھوں پیغامات بھیجتے ہیں۔














