سینیئر بھارتی صحافی اور پوڈکاسٹر اشوک کمار پانڈے کے پروگرام میں صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت کے دور میں مبینہ کرپشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بھاری کمیشن اور بدعنوانی نے عوامی وسائل کے استعمال کو شدید متاثر کیا ہے۔
پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران راجو پارولیکر نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے اور بعض منصوبوں میں تعمیراتی لاگت کا بڑا حصہ مبینہ طور پر کمیشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹھیکوں میں کمیشن کا نظام موجود ہونے کے باوجود ٹھیکیدار مجموعی رقم کا بڑا حصہ منصوبے پر خرچ کرتے تھے، لیکن اب صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے رام مندر کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ منصوبہ انتہائی کم لاگت میں مکمل کیا گیا اور اٹک بہاری واجپائی کے اسٹیچو کی تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعمیراتی معیار بھی ناقص تھا، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افتتاح کے کچھ عرصے بعد ہی بارش کے دوران اس کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔
راجو پارولیکر نے الزام عائد کیا کہ بعض ریاستی ترقیاتی منصوبوں میں مختلف سطحوں پر کمیشن تقسیم ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام کے لیے مختص رقم کا بڑا حصہ پہلے ہی نکل جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی منصوبے کی رقم کا بڑا حصہ کمیشن میں چلا جائے تو باقی ماندہ رقم سے معیاری تعمیر، مزدوری اور دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ
گفتگو کے دوران مہاراشٹر کی حکومت کو طنزیہ انداز میں ’3 پہیوں والی حکومت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ مختلف سیاسی دھڑوں اور افراد کے درمیان کمیشن کی تقسیم کا نظام موجود ہے۔
صحافی نے کہا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن پہلے ہی وصول کرلیا جائے تو منصوبے کی تعمیر کے لیے دستیاب رقم مزید کم ہوجاتی ہے، جس کا براہ راست اثر کام کے معیار پر پڑتا ہے۔













