بھارت میں سرکاری منصوبے کمیشن کی نذر، بی جے پی دور میں کرپشن کے سابق ریکارڈ ٹوٹ گئے

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر بھارتی صحافی اور پوڈکاسٹر اشوک کمار پانڈے کے پروگرام میں صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت کے دور میں مبینہ کرپشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بھاری کمیشن اور بدعنوانی نے عوامی وسائل کے استعمال کو شدید متاثر کیا ہے۔

پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران راجو پارولیکر نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن کی صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے اور بعض منصوبوں میں تعمیراتی لاگت کا بڑا حصہ مبینہ طور پر کمیشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹھیکوں میں کمیشن کا نظام موجود ہونے کے باوجود ٹھیکیدار مجموعی رقم کا بڑا حصہ منصوبے پر خرچ کرتے تھے، لیکن اب صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب دکھائی دیتی ہے۔

سینیئر بھارتی صحافی اور پوڈکاسٹر اشوک کمار پانڈے کے پروگرام میں صحافی راجو پارولیکر گفتگو کرتے ہوئے۔

انہوں نے رام مندر کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ منصوبہ انتہائی کم لاگت میں مکمل کیا گیا اور اٹک بہاری واجپائی کے اسٹیچو کی تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعمیراتی معیار بھی ناقص تھا، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افتتاح کے کچھ عرصے بعد ہی بارش کے دوران اس کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔

راجو پارولیکر نے الزام عائد کیا کہ بعض ریاستی ترقیاتی منصوبوں میں مختلف سطحوں پر کمیشن تقسیم ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام کے لیے مختص رقم کا بڑا حصہ پہلے ہی نکل جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی منصوبے کی رقم کا بڑا حصہ کمیشن میں چلا جائے تو باقی ماندہ رقم سے معیاری تعمیر، مزدوری اور دیگر اخراجات پورے کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

گفتگو کے دوران مہاراشٹر کی حکومت کو طنزیہ انداز میں ’3 پہیوں والی حکومت‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ مختلف سیاسی دھڑوں اور افراد کے درمیان کمیشن کی تقسیم کا نظام موجود ہے۔

صحافی نے کہا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن پہلے ہی وصول کرلیا جائے تو منصوبے کی تعمیر کے لیے دستیاب رقم مزید کم ہوجاتی ہے، جس کا براہ راست اثر کام کے معیار پر پڑتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp