برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نوجوان نسل خصوصاً ’جن زی‘ سے رابطے کے لیے اپنی طویل عرصے سے قائم رسمی اور طاقتور رہنما کی شبیہ سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر غیر رسمی انداز اپنانا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی بھارت میں ہونے والے نوجوانوں کے حالیہ احتجاج کے بعد سامنے آئی، جب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سوشل میڈیا پر اپنے بیانیے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نریندر مودی نے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران ایک مضبوط، بااثر اور انتہائی منظم سیاسی رہنما کی شبیہ بنانے پر توجہ دی۔ ان کی تقاریر، سرکاری نشریات اور عوامی انداز عموماً انتہائی منصوبہ بندی کے تحت ہوتی رہی ہیں، تاہم اب 75 سالہ بھارتی وزیراعظم نوجوان نسل سے قربت ظاہر کرنے کے لیے انسٹاگرام پر بالکل مختلف انداز اختیار کر رہے ہیں۔
Modi spent years building his strong image – why is he making Gen Z reels now? https://t.co/0vInCY6iCf
— BBC News (World) (@BBCWorld) August 21, 2026
بی بی سی کے مطابق مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر حالیہ ہفتوں میں ’گیٹ ریڈی ود می‘ جیسی ریلز، سیلفی انداز کی ویڈیوز اور نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو سامنے آئی ہے۔ وہ نوجوانوں کو ’دوست‘ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں اور جن زی میں مقبول زبان اور انداز اپنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ مودی کے انسٹاگرام پر 10 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کے باعث وہ دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔
تاہم بی بی سی کے مطابق مودی اور بی جے پی کی یہ اچانک تبدیلی نوجوانوں کو متاثر کرنے کے بجائے کئی مواقع پر مذاق کا موضوع بن گئی۔ مودی کی پہلی سیلفی ویڈیو، جس میں انہوں نے نوجوانوں کے احتجاج پر بات کرتے ہوئے ’دوستو‘ کہا، سوشل میڈیا صارفین نے مختلف طنزیہ ایڈیٹس اور مزاحیہ تبصروں کے ساتھ دوبارہ شیئر کی۔ ویڈیو کے کیمرہ اینگل، روشنی اور مودی کے انداز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بھارت میں رواں سال ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج ہیں، جو میمز، لائیو اسٹریمز اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے تیزی سے پھیلے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے شروع ہونے والی طنزیہ آن لائن تحریک اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ اس کے نتیجے میں ایک وفاقی وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:ہیروں کے ارب پتی تاجر ’نیرَو مودی‘ کا عروج سے اربوں کے بینک فراڈ تک کا سفر
بی بی سی کے مطابق بھارت کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جبکہ 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی جن زی نسل 2029 کے عام انتخابات تک ملک کے بڑے ووٹر گروہوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اب انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم نوجوانوں کا کہنا ہے کہ محض مقبول زبان، میمز اور ریلز بنانے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ 22 سالہ گنی مالیہ کے مطابق مودی حکومت کی اچانک سوشل میڈیا سرگرمی کی اصل وجہ اور اس کا وقت زیادہ اہم سوال ہے، کیونکہ احتجاج کے دوران اٹھائے گئے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔
بی بی سی نے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ انسٹاگرام پر توجہ حاصل کرنا اور وہاں سیاسی بیانیے پر کنٹرول رکھنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔ مودی کی ایک ریل 40 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھی گئی، لیکن اسے نوجوان صارفین نے طنزیہ انداز میں دوبارہ پیش کیا، جس سے ویڈیو کا اصل پیغام ہی تبدیل ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق بی جے پی اگرچہ انتخابی کامیابی کے لیے صرف سوشل میڈیا پر انحصار نہیں کرتی، تاہم نوجوان نسل کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل رویوں نے پارٹی کو سیاسی ابلاغ کے نئے طریقے سیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔














