پاکستان میں نئے اور چھوٹے صوبوں کے قیام کی بحث ایک عرصے سے جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد انتظامی امور کو مؤثر بنانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو حکومتی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ ایسے انتظامی یونٹس نہ صرف حکمرانی کے نظام کو زیادہ فعال بنا سکتے ہیں بلکہ مقامی سطح پر نئی قیادت اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، کاروبار اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں اور اگر انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کی سیاسی، معاشی اور انتظامی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے اور چھوٹے صوبوں کا قیام پاکستان کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے سیاسی قیادت، سول سروس، روزگار اور فیصلہ سازی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے؟ کیا اس عمل سے نوجوانوں کو روایتی سیاست سے ہٹ کر اپنی صلاحیتیں منوانے اور قیادت کا موقع مل سکے گا؟
مزید پڑھیں: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو
نوجوانوں کے لیے با اختیار لوکل گورنمنٹ کا نظام مفید ثابت ہو سکتا ہے، احمد بلال محبوب
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے لیے نئے صوبوں کے قیام کے بجائے مؤثر اور بااختیار لوکل گورنمنٹ کا نظام زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان سیاست میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں مقامی حکومت کے نظام سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہیے، جہاں وہ کونسلر کا انتخاب لڑ کر عملی سیاست اور عوامی مسائل کو قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔
احمد بلال محبوب کے مطابق لوکل گورنمنٹ میں حلقہ انتخاب نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، جس کے باعث نوجوان کم اخراجات کے ساتھ انتخابی سیاست میں قدم رکھ سکتے ہیں اور زمینی حقائق، عوامی مسائل اور حکمرانی کے عملی تقاضوں کو سیکھنے کا بہتر موقع حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کے خیال میں نوجوانوں کو کونسلر سے آغاز کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کونسل، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ تک سیاسی سفر آگے بڑھانا چاہیے، کیونکہ یہ سیاسی ترقی کا زیادہ فطری اور مؤثر راستہ ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے ممکنہ مواقع کے حوالے سے احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھنے سے عام لوگوں کے لیے کچھ نئی ملازمتیں ضرور پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ حکومتی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
’نئے صوبوں کے قیام کی صورت میں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور دیگر انتظامی ڈھانچوں کی تعداد بڑھے گی، جس سے ملکی خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں نئے صوبوں کا قیام ایک معاشی حل نہیں ہوگا، کیونکہ سوال یہ بھی ہے کہ ان اضافی اداروں اور ملازمتوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔‘
احمد بلال محبوب کے مطابق اس کے برعکس لوکل گورنمنٹ کا نظام نسبتا کم خرچ اور زیادہ معاشی حل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے بڑی حد تک دفاتر، انفراسٹرکچر اور عملہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
ان کے خیال میں بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کیے جائیں تو نوجوان کم وسائل کے ساتھ مقامی سیاست میں داخل ہو سکتے ہیں، عوامی مسائل کو سمجھ سکتے ہیں اور ایک مضبوط سیاسی کیریئر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے سیاسی ترقی کا مؤثر راستہ نئے صوبوں کے بجائے مضبوط اور فعال لوکل گورنمنٹ سے ہو کر گزرتا ہے۔
صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، رانا عثمان
سیاسی تجزیہ کار رانا عثمان نے کہاکہ نئے اور چھوٹے صوبے نوجوانوں کے لیے سیاسی، انتظامی اور معاشی میدان میں اہم مواقع پیدا کر سکتے ہیں، تاہم صرف صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے روزگار یا سیاسی مواقع خود بخود پیدا نہیں ہوں گے۔
رانا عثمان کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کا اصل فائدہ اس وقت سامنے آئے گا جب اس کے ساتھ مؤثر حکمرانی، میرٹ، شفافیت، سرمایہ کاری، صنعت اور نجی شعبے کے فروغ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ان کے مطابق چھوٹے صوبوں میں سیاسی مقابلے کا دائرہ نسبتاً محدود ہونے کے باعث نوجوانوں کے لیے مقامی اور صوبائی سطح پر قیادت ابھرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ نئی صوبائی اسمبلیوں، وزارتوں اور اداروں کے قیام سے روایتی سیاسی چہروں کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور متحرک نوجوانوں کے لیے بھی سیاست میں آگے آنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ اس طرح نئی نسل کو نہ صرف سیاسی عمل کا حصہ بننے بلکہ فیصلہ سازی اور قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے مواقع بھی میسر آ سکتے ہیں۔
رانا عثمان کے مطابق نئے صوبے کے قیام سے سول سروس اور سرکاری ملازمتوں کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ نئے صوبائی انتظامی ڈھانچے کے لیے مختلف وزارتوں، محکموں اور اداروں کی ضرورت ہوگی۔ اس کے نتیجے میں افسران، اساتذہ، انجینیئرز، آئی ٹی ماہرین، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور دیگر پیشہ ور نوجوانوں کے لیے نئی اسامیاں پیدا ہونے کی گنجائش ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ فائدہ اسی صورت میں حقیقی اور دیرپا ہوگا جب بھرتیاں میرٹ اور شفاف طریقے سے کی جائیں۔
ان کے نزدیک نئے اور چھوٹے صوبوں کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے علاقے کے مخصوص مسائل پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکیں۔ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں کے لیے مقامی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں، جس سے نوجوانوں کے لیے کاروبار، سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
تاہم رانا عثمان نے اس بات پر زور دیا کہ نیا صوبہ خود روزگار پیدا کرنے کی ضمانت نہیں ہے۔ اگر صوبہ صرف نئی اسمبلی، نئی بیوروکریسی اور حکومتی اخراجات میں اضافے تک محدود رہا، جبکہ صنعت، سرمایہ کاری، تعلیم اور نجی شعبہ ترقی نہ کر سکے، تو نوجوانوں کو اس کا دیرپا فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اصل توجہ ایسے معاشی اور انتظامی ماحول کی تشکیل پر ہونی چاہیے جہاں نوجوان صرف سرکاری ملازمت کے منتظر نہ رہیں بلکہ خود کاروبار، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہوں۔
رانا عثمان کے خیال میں نئے صوبوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان سے کتنی نئی سرکاری نوکریاں پیدا ہوئیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ انہوں نے نوجوانوں کے لیے نئی سیاسی قیادت، بہتر حکمرانی، سرمایہ کاری، کاروبار اور مقامی صنعت کے کتنے مواقع پیدا کیے۔
ان کے نزدیک نئے صوبے کا سب سے بڑا فائدہ نوجوانوں کو صرف سرکاری عہدے دینا نہیں بلکہ ایسا مضبوط ماحول فراہم کرنا ہونا چاہیے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خود اپنے اور دوسروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔
صرف چھوٹے صوبے بنا دینے سے نوجوانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے، ماجد نظمی
تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں پڑھے لکھے اور پریزنٹیبل افراد کو ترجیح دیتی ہیں۔
ان کے مطابق مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جیسی بڑی سیاسی جماعتوں میں عموماً انہی افراد کو انتخابی ٹکٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو اپنے حلقوں میں مضبوط، بااثر اور مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ صرف تعلیم یافتہ اور پریزنٹیبل ہونا سیاسی جماعتوں کی ترجیح بننے کے لیے کافی نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پڑھے لکھے اور پریزنٹیبل نوجوانوں کو سیاسی جماعتیں بعض اوقات ضرور آگے لاتی ہیں، لیکن اس میں بھی سیاسی خاندان سے تعلق ایک اہم عنصر بن جاتا ہے۔ پنجاب، مرکز اور سندھ میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں نوجوان وزرا یا سیاسی شخصیات پہلے سے موجود سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے خاندان کے افراد مختلف ادوار میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف سے وابستہ رہے ہیں۔
ماجد نظامی کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سیاسی جماعتیں محض تعلیم، قابلیت یا شخصیت کی بنیاد پر نوجوانوں کو ترجیح دینا شروع کر رہی ہیں، کیونکہ پاکستان کی سیاست میں سیاسی خاندان، موروثیت اور حلقے میں مضبوط انتخابی پوزیشن اب بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نئے اور چھوٹے صوبوں کے قیام سے نوجوانوں کے لیے سیاسی قیادت اور سول سروس کے مواقع پیدا ہونے کے حوالے سے ماجد نظامی کا مؤقف ہے کہ وہ اس بات سے صرف جزوی طور پر اتفاق کرتے ہیں۔
ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس کی مثالیں ہمارے سامنے آزاد کشمیر اور اسلام آباد کی صورت میں موجود ہیں، لیکن صرف انتظامی یونٹ کا چھوٹا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں نوجوانوں کے لیے سیاسی قیادت یا سول سروس کے مواقع خود بخود بڑھ جائیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں اور اضلاع کی آبادی نسبتاً کم ہونے کے باوجود وہاں ایسا مثالی انتظامی نظام قائم نہیں ہو سکا جسے نوجوانوں کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا کرنے کی کامیاب مثال قرار دیا جا سکے۔ اس لیے یہ تصور کہ صرف نئے اور چھوٹے صوبے بنا دینے سے نوجوانوں کے لیے سیاسی قیادت، سول سروس اور دیگر مواقع کی راہ ہموار ہو جائے گی، درست نہیں۔
مزید پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
ماجد نظامی کے مطابق نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن میں سیاسی اہلیت، مؤثر انتظامی نظام، اچھی حکمرانی، افسران اور سیاسی قیادت کی نیک نیتی، میرٹ اور اہل افراد کا فیصلہ سازی میں مثبت کردار شامل ہے۔ ان عوامل کے مؤثر ہونے کے بعد ہی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نئے اور چھوٹے صوبوں کا قیام واقعی نوجوانوں کے لیے کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوگا۔














