مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ کے القابات: کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کے کو قبول ہوگا؟

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف، نظریاتی مخالف مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں حکومت مخالف اتحاد کا حصہ بن گئی ہے، جو ماضی میں ایک دوسرے کو مختلف القابات اور الزامات سے نوازتے رہے۔

عمران خان کو سزا ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اپوزیشن اتحاد اور ایک ساتھ حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور کئی بار مولانا فضل الرحمان کے گھر بھی ملاقات کے لیے گئے، لیکن مولانا اتحاد پر راضی نہ ہوئے۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر نے حمایت میں ووٹ دے دیا

پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان وقاص اکرم شیخ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے اتحاد کی ہر ممکن کوشش کی۔ ڈی آئی خان میں ایک نشست دینے کی بات بھی ہوئی تھی، لیکن مولانا راضی نہ ہوئے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی تمام اپوزیشن کو متحد کرنا چاہتی تھی۔

مولانا سے اتحاد پی ٹی آئی کی دیرینہ خواہش تھی، جو پارلیمان کے اندر تک پوری ہوئی ہے اور اسے پی ٹی آئی کی بھی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے ابھی تک معاملات فائنل نہیں ہوئے۔ تاہم تجزیہ کار ماضی کے سخت سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے اتحاد کو زیادہ دیرپا نہیں دیکھ رہے۔

صرف پارلیمان کی حد تک اتحاد ہو رہا ہے؟

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف پارلیمان میں اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور پارلیمنٹ میں ایک اہم ملاقات بھی ہوئی ہے۔ باخبر لوگ بتاتے ہیں کہ مولانا نے ایک بار اسی طرح اپوزیشن کو متحد کرکے عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا، جس کا نتیجہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اپوزیشن جماعتوں کی حکومت بن گئی، جس میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی شامل تھی۔

اب مولانا پی ٹی آئی کو ساتھ لے کر موجودہ حکومت کے خلاف میدان میں آنے کی تیاری شروع کررہے ہیں۔ دونوں جانب سے ابھی تک اتحاد کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ تاہم کچھ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد صرف پارلیمان تک محدود ہوگا اور پی ٹی آئی کی نمائندگی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کریں گے۔

کیا جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں اتحاد ممکن ہے؟

سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے اور ماضی میں بھی سیاسی مخالفین اکٹھے ہوئے ہیں اور مفادات ختم ہونے کے بعد شدید مخالف بھی بن گئے، لیکن پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے بارے میں ان کی رائے بالکل مختلف ہے۔

کاشف الدین سید سینیئر صحافی و سیاسی تجزیہ کار ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں اتحاد کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں اور کئی بار کوشش کے باوجود بھی وہ عمران خان سے اتحاد پر راضی نہ ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ اتحاد ہونا مشکل ہے، اگر ہوگیا تو سب بھول جائیں گے، کیوں کارکنان قائدین کا حکم مانتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ مولانا کو عمران خان قابل قبول ہوں گے اور کیا عمران خان جیل سے نکل آئے تو مولانا انہیں قابل قبول سمجھیں گے؟

سینیئر صحافی ظفر اقبال کا بھی یہ ماننا ہے۔ ان کے مطابق مولانا اور عمران خان کی جماعتوں کے مابین سیاسی اور شدید نظریاتی اختلافات ہیں اور دونوں جانب ایک دوسرے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ’مولانا کو عمران خان پر بھروسہ بالکل بھی نہیں ہے۔‘

کیا پارٹی کارکنان کو اتحاد قابلِ قبول ہوگا؟

پشاور کے نوجوان صحافی انور زیب کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی اور مولانا میں اتحاد ہونا مشکل لگ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کے اندر حکومت کو سخت وقت دینے اور اپنے مفادات کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کو فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک تاثر ہے کہ سیاست میں کوئی لفظ آخر نہیں ہے، لیکن کیا کارکنان ماضی کے تلخ بیانات کو بھول جائیں گے؟

انورزیب نے بتایا کہ پارٹی میں کارکنان کے علاوہ اراکین اور قائدین بھی ہیں جو اس اتحاد سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ورکرز کبھی بھی عمران خان اور مولانا کو ایک اسٹیج پر قبول نہیں کریں گے۔

نوجوان صحافی فیضان حسین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف جو بیانات ہیں، انہیں دیکھ کر نہیں لگ رہا کہ اتحاد ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا کئی بار کہہ چکے ہیں کہ عمران خان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہاکہ دونوں جماعتوں کے جلسوں میں ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی معمول کی بات ہے۔ ایسے میں مولانا اور عمران کے کارکنان ایک ساتھ کیسے جمع ہو سکتے ہیں؟

اتحاد سے کس کو کتنا فائدہ ہوگا؟

فیضان حسین کے مطابق حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹو کے خلاف ایم آر ڈی بنی تھی۔ اس میں بھی اہم کردار مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف کے خلاف بھی اے آر ڈی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد پرویز مشرف کے خلاف بھی تحریک چلی تھی، جبکہ عمران خان کے خلاف تحریک کی قیادت فضل الرحمان نے کی تھی، جس کا انہیں فائدہ بھی ہوا تھا، لیکن انہیں لگ رہا ہے کہ اس بار شاید مولانا کو اتنا فائدہ نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اتحاد چاہتی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ مولانا سڑکوں پر احتجاج میں بھی ساتھ ہوں، لیکن مولانا اس کے لیے راضی نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جس نے بھی اتحاد کیا، اسے بعد میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جماعت اسلامی اور شیرپاؤ کے ساتھ جو ہوا، سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی میں اتحادیوں کی قدر بھی نہیں ہے۔ انور زیب بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے بارے میں تاثر ہے کہ اپنا مطلب نکالنے کے بعد دوسرے کو پھینک دیتے ہیں، اس کا مولانا کو بخوبی اندازہ ہے۔

’مشترکہ اپوزیشن پارلیمان تک محدود ہے‘

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وی نیوز کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے اتحاد پارلیمان اور قانون سازی تک محدود ہے۔ تاہم، انہوں نے خواہش کا اظہار کیاکہ یہ اتحاد تمام امور پر مشترکہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ فی الحال پارلیمان کی حد تک اپوزیشن اتحاد پر اتفاق ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کے گوربا چوف، جے یو آئی نے فضل الرحمان کے خلاف بیان پر وضاحت مانگ لی

کارکنان کی جانب سے جے یو آئی کے خلاف غلط بیان بازی روکنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس حق میں نہیں ہیں کہ کارکنان کسی بھی جماعت یا سیاسی رہنما پر تنقید کریں یا ان کے خلاف غلط نعرے بازی کریں۔

دوسری جانب، جے یو آئی کی جانب سے اس اتحاد پر تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

آزاد کشمیر حکومت سازی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج، کون بنے گا وزیراعظم؟ نام فائنل کرلیا گیا

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیوں کررہی ہیں، کیا کوئی خاص وجہ ہے؟

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

ویڈیو

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

کالم / تجزیہ

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا