آزاد کشمیر حکومت سازی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج، کون بنے گا وزیراعظم؟ نام فائنل کرلیا گیا

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے بعد نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ مخصوص نشستوں پر انتخاب کے بعد نومنتخب ارکان نے حلف بھی اٹھا لیا ہے، جبکہ آج اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا مرحلہ ہے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز 24 اگست کو ہوا، جس میں اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔ مجموعی طور پر 46 ارکان نے رکنیت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ نئی اسمبلی کی آئینی و پارلیمانی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کی سیاست میں مریم نام کا چرچا، ’تین مریم‘ اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے، جبکہ وزیراعظم کے امیدوار کے نام کا بھی حتمی فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

شیڈول کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 25 اگست کو صبح 10 بجے سے 11 بجے تک جمع کرائے جائیں گے۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال صبح 11 بج کر 15 منٹ پر ہوگی، جبکہ امیدواروں کی فہرست 11 بج کر 30 منٹ تک جاری کردی جائے گی۔

کاغذات نامزدگی واپس لینے کا آخری وقت صبح 11 بج کر 45 منٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ امیدواروں کی حتمی فہرست دوپہر 12 بجے سامنے آئے گی۔

شیڈول کے مطابق اسپیکر کا انتخاب 25 اگست کو دوپہر 2 بجے اسمبلی اجلاس میں ہوگا، جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب دوپہر 3 بجے اسمبلی سیکریٹریٹ میں ہوگا۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 25 اگست کو دوپہر 2 بجے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت ہوگا۔

آزاد کشمیر اسمبلی کتنے ارکان پر مشتمل ہے؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ 8 نشستیں مخصوص ہیں۔

براہ راست منتخب ہونے والی 45 نشستوں میں 33 نشستیں آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔ باقی 8 مخصوص نشستوں میں خواتین کی 5، ٹیکنوکریٹس و دیگر پروفیشنلز کی ایک، علما و مشائخ کی ایک اور اوورسیز کشمیریوں کی ایک نشست شامل ہے۔

’45 میں سے 38 براہ راست نشستوں پر انتخاب‘

حالیہ عام انتخابات میں براہ راست منتخب ہونے والی 45 نشستوں میں سے 38 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوا جبکہ پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے، جس کے باعث ان نشستوں پر ابھی انتخاب ہونا باقی ہے۔

مکمل ہونے والے براہ راست انتخابی نتائج میں مسلم لیگ ن نے 25 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کا اعزاز حاصل کیا، پاکستان پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ عوامی دست و بازو کے امیدوار ساجد اقبال عباسی ایک نشست پر کامیاب ہوئے۔

ساجد اقبال عباسی نے بعد ازاں مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد اور نئی حکومت کی حمایت کا اعلان کردیا، جس سے حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی۔

مخصوص نشستوں پر بھی مسلم لیگ ن کو برتری

براہ راست نشستوں کے بعد مخصوص نشستوں کا مرحلہ بھی مکمل کیا گیا۔ اوورسیز کشمیریوں کی نشست پر مسلم لیگ ن کے عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔ باقی مخصوص نشستوں پر خواتین، ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز اور علما و مشائخ کی نشستوں کے لیے انتخاب ہوا۔

خواتین کی 5 مخصوص نشستوں میں مسلم لیگ ن نے 3 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کیں۔

مسلم لیگ ن کی مریم کشمیری، مریم ادریس اور سحرش قمر کامیاب ہوئیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجا خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب قرار پائیں۔

ٹیکنوکریٹ کی نشست، علما و مشائخ کی نشست اور اوورسیز نشست بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی، یوں مخصوص نشستوں میں مسلم لیگ ن نے مجموعی طور پر 6 جبکہ پیپلز پارٹی نے 2 نشستیں حاصل کیں۔

ایوان میں جماعتوں کی موجودہ پوزیشن

مخصوص نشستوں کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 31 ہوگئی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان 14 ہیں، جبکہ عوامی دست و بازو کے رکن ساجد اقبال بھی اسمبلی میں موجود ہیں۔

ساجد اقبال کی مسلم لیگ ن کے ساتھ حمایت اور اتحاد کے باعث حکومتی اتحاد کی پارلیمانی طاقت 32 ارکان تک پہنچ گئی ہے، جس سے مسلم لیگ ن کو 53 رکنی ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہے۔

تاہم پونچھ ڈویژن کی 7 نشستیں ابھی خالی ہیں اور ان پر انتخاب ہونا باقی ہے۔ ان حلقوں میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ایوان کی تمام 53 نشستوں کی حتمی تشکیل ممکن ہوگی۔

’چوہدری طارق فاروق اسپیکر کے لیے نامزد، شاہ غلام قادر وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے‘

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کو آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے لیے نامزد کردیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر کے وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار بننے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے لیے چوہدری طارق فاروق کے نام کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے شاہ غلام قادر کا نام قریباً طے ہوگیا ہے، تاہم دونوں عہدوں کے حوالے سے حتمی باضابطہ اعلان آج مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متوقع ہے۔

مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ وزیراعظم کے امیدوار کے نام کی بھی توثیق متوقع ہے۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے مسلم لیگ ن کو ایوان میں اپنی واضح عددی برتری کے باعث کامیابی کی مضبوط پوزیشن حاصل ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب 27 اگست کو متوقع

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد سب سے اہم مرحلہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب ہوگا، جس کے لیے 27 اگست کی تاریخ متوقع ہے۔

یوں آزاد کشمیر میں عام انتخابات، مخصوص نشستوں کے انتخاب اور نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد حکومت سازی کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: عبدالرحمان آرائیں اوورسیز نشست پر بلامقابلہ رکن آزاد کشمیر اسمبلی منتخب، ان کو یہ نشست کن خدمات پر ملی؟

آج اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے امیدواروں کے نام سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے امیدوار کا معاملہ بھی واضح ہوجائے گا، جبکہ 27 اگست کو وزیراعظم کے انتخاب کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کا اہم مرحلہ مکمل ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

قومی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کل اسلام آباد میں ہوگی

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

عمران خان کی صحت کے متعلق افواہیں دم توڑ چکیں، پی ٹی آئی کے پاس اب اسٹریٹ پاور نہیں، شمائلہ رانا

چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران، امریکا ایران تنازع خاتمے کے لیے اہم ملاقاتیں

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

ویڈیو

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

پہلے پی ڈی ایم اور اب پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، مولانا فضل الرحمان کا ماضی و حال کا مؤقف کیا؟

مولانا ڈیزل اور یہودی ایجنٹ کے القابات: کیا فضل الرحمان اور عمران خان کا ایک اسٹیج پر آنا کارکنوں کو قبول ہوگا؟

کالم / تجزیہ

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا