جنگِ ایران کے 6 ماہ: طویل ہوتی جنگ امریکی انتظامیہ کے لیے گلے کا طوق بن گئی

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے ساتھ عسکری تصادم کو 6 ماہ مکمل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس جنگ کے بارے میں عدم توجہی اور حقائق سے فرار کا رویہ سامنے آ رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک تیزی سے ملنے والی کامیابی قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم اب یہ طویل جنگ نہ صرف ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت پر بھاری پڑ رہی ہے بلکہ ان کی عوامی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی کا باعث بن رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر پڑنے کے شدید امکانات ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک غیر رسمی پریس کانفرنس کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ہیلی پیڈ، بال روم اور گرینائٹ کی ٹائلوں کی تعریفوں کے پل باندھے، لیکن جس معاملے پر انہوں نے شاید ہی کوئی بات کی، وہ ایران جنگ تھی۔

ایران کے خلاف جس کارروائی کو ایک تیز رفتار پیش قدمی سمجھ کر شروع کیا گیا تھا، اسے 6 ماہ گزرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ یا تو اس جنگ سے اکتا چکے ہیں یا پھر حقیقت سے آنکھیں چرانے لگے ہیں، جبکہ یہ معرکہ ان کی دوسری صدارتی مدت کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان کی تزئین و آرائش کا دورہ کرانے کے بعد جب صحافیوں نے ایران سے متعلق سوال پوچھا، تو ٹرمپ نے بس اتنا کہا، ’اس وقت صورتِ حال بہت بہترین ہے۔‘ اس 36 منٹ کی گفتگو میں ٹرمپ نے ’گرینائٹ‘ کا لفظ 13 بار استعمال کیا جبکہ ’ایران‘ کا ذکر محض 3 بار کیا۔

یہ بھی پڑھیے ’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں کم از کم 18 امریکی فوجی ہلاک اور 750 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ یہ لڑائی ٹرمپ کے گلے کا طوق بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور لبنان میں بھی ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ امریکی ووٹرز جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید غصے میں ہیں اور اسی ماحول میں اہم مڈ ٹرم ( وسط مدتی) انتخابات سر پر آ چکے ہیں۔

یہاں تک کہ ان کے نعرہ ’میک امریکا گریٹ اگین‘ کے حامی بھی اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ وہ رہنما جس نے کسی نئی غیر ملکی جنگ کا حصہ نہ بننے کا وعدہ کیا تھا، اس نے بغیر کسی واضح حکمتِ عملی کے امریکا کو ایک اور دلدل میں کیوں دھکیل دیا۔ اس بارے میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ولیم گالسلاں کا کہنا ہے، ’کیا ٹوپی میں سے کوئی خرگوش نکلنے والا ہے؟ بالکل نہیں، میرا خیال ہے کہ ٹوپی اب بالکل خالی ہے۔‘

‘شدید اکتاہٹ’

2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی ریٹنگ میں مسلسل کمی آئی ہے، جبکہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اس کمی میں مزید تیزی دیکھی گئی۔ 14 سے 17 اگست کے درمیان کیے گئے ‘رائٹرز/اپسوس’ کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت گر کر 33 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی موجودہ صدارتی مدت کی کم ترین سطح ہے۔ دیگر بڑے سروے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف منفی زون میں جا چکا ہے۔

ٹرمپ کے نزدیک ایران کا معاملہ وینیزوئیلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کی طرح ایک تیزی سے ملنے والی فتح ثابت ہونا تھا۔ اپریل میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اے ایف پی کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے ’مکمل اور حتمی فتح‘ کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم، جیسے ہی جنگ بندی ختم ہوئی اور ایران نے جھکنے سے انکار کر دیا، ٹرمپ نے عسکری دباؤ کے بجائے معاشی دباؤ کی پالیسی اختیار کی، اور جنگ کی جو وجوہات انہوں نے بتائی تھیں، وہ بھی حکومت کی تبدیلی (ریجیم چینج) سے بدل کر ایران کو ایٹمی ہتھیار سے روکنے تک محدود ہو گئیں۔ بعد ازاں، جب ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا، جو کہ ٹرمپ کی جنگ کے بعد ہی ایک سٹریٹجک تنازع بنا، تو 80 سالہ صدر پہلے تو مایوس ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ اس معاملے سے غیر متعلق دکھائی دینے لگے۔

یہ بھی پڑھیے جنگ ایران چوتھے ہفتے میں داخل، امریکی عوام میں بے چینی بڑھ گئی، ٹرمپ کی حمایت میں مزید کمی

جون کے مہینے میں ہی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سست روی کا شکار مذاکرات کے بارے میں کہا تھا، ’سچ کہوں تو، مجھے اب یہ باتیں بہت بورنگ لگنے لگی ہیں۔‘

امریکن یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے ماہر گیریٹ مارٹن کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کی توجہ کسی ایک مسئلے پر دیر تک نہیں رہتی۔ انہیں یقین تھا کہ وہ وینیزویلا جیسی تیزی کا اعادہ کریں گے، لیکن اب وہ ایک ایسی صورتِ حال میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔‘

ایک طرف جہاں ٹرمپ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بال روم کا ذکر کرنا پسند کرتے ہیں اور واشنگٹن کی عمارتوں پر اپنا نام کندہ کرا رہے ہیں، وہاں ووٹرز کی توجہ اب بھی ایران جنگ پر مرکوز ہے۔

امریکی میرین کور کے 20 سالہ سابق اہلکار جو پلینزلر کا کہنا ہے، ’میرے خیال میں یہ جنگ بالکل غیر ضروری اور لاپرواہی پر مبنی تھی، اور حالات انتہائی خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ عام امریکی صارفین پر اس کے اثرات شدید ترین پڑے ہیں، اور یہ کہ ورجینیا کا دیہی علاقہ، جو روایت کے طور پر ریپبلکن پارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے، وہاں بھی شدید بے چینی اور ناخوشی پائی جاتی ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ ایک سال قبل یہ اوسطاً 3.14 ڈالر تھی، جس کے تباہ کن اثرات روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، تہران کے مطالبات رکاوٹ بن گئے، وال اسٹریٹ جرنل

ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا امتحان نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں آ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے پیدا ہونے والی عوامی ناخوشی ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور شاید سینیٹ کا کنٹرول بھی چھین سکتی ہے، جس سے نہ صرف ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبے ٹھپ ہو جائیں گے بلکہ ان کے خلاف تیسری بار بھی امپیچمنٹ (مواخذہ) کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

لیکن کیا ٹرمپ اس جنگ سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ چکے ہیں؟ 2029 میں ان کی دوسری مدت کے اختتام پر اپنے صدارتی ترکے اور تاریخ میں مقام کی تلاش کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ہونا بعید از قیاس ہے۔

ولیم گالسلاں کا کہنا ہے، ’میرا خیال ہے کہ انہیں تاریخ میں اپنے مقام کا احساس ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھتے ہوں کہ ان کے نام پر بننے والے مجسمے اور عمارتیں ان کی صدارتی کارکردگی کا متبادل بن جائیں گی، حالانکہ تاریخ میں یاد رکھے جانے والے صدور اپنی کارکردگی سے پہچانے جاتے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp