پمز اسپتال میں جان لیوا آگ کیسے لگی؟ سی ڈی اے رپورٹ سامنے آگئی

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) کے چلڈرن نرسری وارڈ میں جان لیوا آتشزدگی کی تحقیقات سے متعلق سی ڈی اے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ میں اسپتال کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور مقررہ معیار کے مطابق نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی۔

یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، وزیراعظم کا شدید برہمی کا اظہار، وفاقی سیکریٹری صحت معطل

آتشزدگی کی اطلاع صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے صرف 6 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی اور ریسکیو وین جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری وارڈ سے 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکالا، تاہم آتشزدگی کے نتیجے میں 7 بچے جاں بحق ہوگئے۔ متاثرہ افراد میں 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد شامل تھے۔

سی ڈی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں فائر اور لائف سیفٹی کے انتظامات ناکافی تھے اور متعدد انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائے گئے۔

ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف رکاوٹوں کا بھی شکار تھے، جس کے باعث ایمرجنسی کی صورت میں جان بچانے کے اقدامات متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر عملے کے ابتدائی ریسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جبکہ آتشزدگی کے مقام پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔

سی ڈی اے کے مطابق آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وین نے حصہ لیا، آپریشن کے لیے واٹر باؤزر سمیت 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران تعینات کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق جی 10، آئی 9، جی 5 اور ایف ایچ کیو کی ٹیمیں بھی آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp