مختلف مقدمات میں عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی پیشکش، کیا حکومت اور پی ٹی آئی میں بات چیت ممکن ہے؟
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کا بالکل مذاق اڑایا ہے اور عدالتیں ویسے بھی اس ملک میں بالکل مذاق بن گئی ہیں اور یہ توہین عدالت کا بالکل واضح کیس ہے جس میں کوئی دوسری رائے تو ہو ہی نہیں سکتی۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس وقت سیاست کی ضرورت ہے لیکن پی ٹی آئی اس وقت وکیلوں کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے جو نہ تو سیاست کو سمجھتے ہیں اور نہ وکالت کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مقدمات کو بڑی احتیاط سے ڈیل کرنا پڑتا ہے ورنہ یہ گلے پڑ جاتے ہیں
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی نے جو پریس کانفرنس کی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی اور میرا اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مشکلات پھر سے بڑھ جائیں گی۔
مزید پڑھیے: عمران خان رہائی کے بعد فوج سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، قریبی ساتھی کا دعویٰ
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے جو کچھ پریس کانفرنس میں کہا یہ انہیں تحریری طور پر عدالت میں جمع کرانا چاہیے تھا۔ کسی بھی بات کو بیان کرنے کا طریقہ کار ہوتا ہے اگر مناسب طریقہ کار اپناتے تو ٹھیک ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سے یہ فیصلہ آیا تھا اس پر پاکستان تحریک اِنصاف کا ردعمل ذِمّہ دارانہ تھا لیکن اس سے پہلے جو جیل کے باہر گفتگو ہوئی اس نے تلخیوں میں اضافہ کیا۔
’پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی‘
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ 18 اگست فیصلے کے بعد جو وکیل شیخیاں بِگھار رہے تھے کہ ہم نے یہ کر دیا وہ کر دیا وہ آج بہنوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں نہیں بیٹھے۔
انہوں نے کہا کہ سوائے بیرسٹر گوہر کے باقی مرکزی قیادت نے اس سارے معاملے سے خود کو الگ رکھا اور بہنوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں نہیں بیٹھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر ایک مہذب آدمی ہیں اور انہوں نے بڑی کوشش کی معاملات کو سدھارنے میں لیکن ہمیشہ انہیں مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیدی
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ روز بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے سامنے استعفے کی بات کی تو میرا تو ان کو مشورہ ہوگا کہ آپ متحدہ اپوزیشن اتحاد کی طرف جائیں اور اس وقت جو ایک بڑا متحدہ اپوزیشن اتحاد بن رہا ہے۔
’پی ٹی آئی کو سیاست کرنے کی ضرورت ہے‘
فیصل چوہدری نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کو سیاست کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے اُس کے پاس ٹیم موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کے ذریعے راہیں کھولنا پڑتی ہیں لیکن پی ٹی آئی اس وقت وکیلوں کے ہاتھ چڑھی ہوئی ہے جو سیاست کو بالکل بھی نہیں سمجھتے اور میرا تو خیال ہے کہ وکالت بھی نہیں سمجھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ کو کہہ دیا گیا کہ توہین عدالت کی درخواست عمران خان سے دستخط کرا کے لاؤ جبکہ عمران خان کے دستخطوں کی تو ضرورت ہی نہیں تھی کیوں کہ درخواست گزار ڈاکٹر عظمٰی خان ہیں۔
’حکومت کو مفت مشورہ نہیں دوں گا‘
18 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی الشفاء اسپتال منتقلی کا حکمنامہ جاری کیا اور گزشتہ روز انہیں پمز سے چیک اپ کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ ایک سوال پر کہ حکومت اس معاملے پر کیسے اپنا دفاع کرے گی فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ بطور پروفیشنل وکیل حکومت کو مفت مشورہ بالکل نہیں دوں گا لیکن حکومت کے پاس اس بارے میں کوئی عذر تو ہے نہیں۔
’عمران خان پر اصل ظلم قید تنہائی ہے‘
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ عمران خان پر اصل ظلم ان کی قید تنہائی ہے جس کی وجہ سے انہیں اینگزائٹی ہے اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی نے بھی یہی بتایا کہ 10 مہینے سے لوگوں سے ملنے نہیں دیا جا رہا جو بڑی تشویشناک بات ہے جس کی وجہ سے کسی بھی انسان پر نفسیاتی دباؤ پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی عمر کے لحاظ سے ان کے فشار خون کا بڑھنا بھی تشویشناک ہو سکتا ہے۔
’کچھ عناصر سیاسی کشیدگی کم نہیں ہونے دینا چاہتے‘
فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات قانونی نہیں سیاسی ہیں اور یہ مقدمات سیاسی انتقام کے لیے بنائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان رہائی فورس ہر صورت بنے گی، صحت سے متعلق فیصلے فیملی کرے گی، شفیع جان
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک توازن کی فضا پیدا ہوئی تھی لیکن کل رات پھر وہی ہوا اور جیسا کہ بیرسٹر گوہر نے کہا کچھ عناصر اس کا حل نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اگر اسپتال چلے جاتے تو ماحول بدل جاتا معاملات ٹھیک ہو جاتے۔










