پُرآسائش نوکری چھوڑنے والا کھیتی باڑی کرکے کیسے سالانہ 600 کروڑ روپے کمارہا ہے؟

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کے دور میں جہاں ہر شخص کارپوریٹ کی دنیا میں پائیدار اور پُرآسائش زندگی کا خواب دیکھتا ہے، وہیں بھارت سے تعلق رکھنے والے ششی کمار  نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔

انہوں نے امریکا اور بھارت کی آئی ٹی (IT) انڈسٹری میں اعلیٰ عہدے اور بہترین تنخواہ کو خیرباد کہہ کر زراعت کا رخ کیا اور آج ان کی کمپنی سالانہ 600 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر رہی ہے۔

کارپوریٹ سے زراعت تک کا سفر

ششی کمار نے بنگلورو یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ٹیک اور امریکا کی نامور یونیورسٹی الینوائے انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Chicago) سے ٹیلی مواصلات (Telecommunication) میں ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے معروف آئی ٹی کمپنی ویپرو (Wipro Technologies) میں بطور ‘چیف آرکیٹیکٹ’ 13 سال سے زائد عرصے تک کام کیا۔

امریکا اور بھارت میں کل 17 سالہ شاندار کارپوریٹ کیریئر کے باوجود ان کا دل ہمیشہ دیہی علاقوں اور کسانوں کے مسائل میں اٹکا رہا، کیونکہ ان کا تعلق خود ایک کسان خاندان سے تھا۔

‘اکشیا کلپا اورگینک’ کی بنیاد

2010ء میں انہوں نے اپنی پُرآسائش نوکری کو چھوڑ کر زراعت کو ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں کی مدد سے ’اکشیا کلپا اورگینک‘ کی بنیاد رکھی، جو بھارت کی پہلی تصدیق شدہ آرگینک ڈیری کمپنیوں میں سے ایک بن کر ابھری۔

ابتدا میں انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کمپنی تقریباً 10 بار دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچی، لیکن ان کی زوجہ اور خاندان نے ان پر اعتماد برقرار رکھا اور سرمایہ کاری کی۔

کامیابی اور کسانوں کی خوشحالی

آج ان کا یہ اقدام نہ صرف خود ان کے لیے بلکہ ہزاروں کسانوں کے لیے بھی انقلاب ثابت ہوا ہے۔ اکشیا کلپا کی سالانہ آمدنی 600 کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس وقت تقریباً 2,800 سے زائد کسان (جن میں 1,200 سے زائد خواتین اور اکثریت نوجوان کسانوں کی ہے) اس پلیٹ فارم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس نیٹ ورک سے وابستہ کسان خاندان ماہانہ اوسطاً 1.28 لاکھ روپے تا 1 لاکھ روپے کما رہے ہیں۔ ڈیری پراڈکٹس (دودھ، دہی، پنیر، گھی) کے علاوہ اب یہ کمپنی نامیاتی (Organic) سبزیوں، پھلوں، شہد اور انڈوں کی فراہمی بھی کر رہی ہے۔

جدید اور پائیدار طریقہ کار

ششی کمار نے روایتی کھیتی باڑی میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کو شامل کیا۔ گوبر سے میتھین گیس بنا کر فارم پر توانائی حاصل کی جاتی ہے اور بچے ہوئے مادے کو نامیاتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جدید نظام لگایا۔ ان کے طریقوں کی بدولت زمین میں نامیاتی کاربن کی مقدار 0.3 فیصد سے بڑھ کر 0.98 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ششی کمار کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صحیح حکمت عملی، جدید سوچ اور جذبے کے ساتھ کام کیا جائے تو زراعت کو بھی دنیا کے کسی بھی بڑے اور منافع بخش بزنس کے برابر لایا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp