سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم پیش کرنے جا رہی ہے جس کے تحت بہاولپور اور ہزارہ کو فوری طور پر نئے صوبے بنانے کی تجویز دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں بھارتی جاسوس دراصل اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں، محمد علی درانی
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں پہلے ہی صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہو چکی ہیں اس لیے ان علاقوں کو پہلے صوبوں کا درجہ دینے سے نئے صوبوں کے قیام کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے جس کے بعد دیگر صوبوں کے قیام کی جانب پیشرفت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ’فارم 47‘ کی بنیاد پر قائم ہے اگر فارم 47 نہ ہو تو پیپلز پارٹی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے اور وہ سندھ کی بات کیسے کرتی ہے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پہلے ہی توثیق کر چکی ہیں اس کے بعد ان دونوں جماعتوں کے پاس یہ کہنے کا کیا جواز ہے کہ نئے صوبے نہیں بننے دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق آئین کے تحت جو صوبے بننے ہیں وہ بنائے جائیں گے۔
محمد علی درانی نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم لانے جا رہی ہے جس میں فوری طور پر بہاولپور اور ہزارہ کو صوبے بنانے کی بات کی جائے گی۔ ان کے بقول چونکہ ان دونوں صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں صوبائی اسمبلیوں سے منظور ہو چکی ہیں اس لیے اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔













