نیپال، تبت میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 469 تک پہنچ گئیں، مزید سیلاب کا خدشہ

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال اور تبت کے سرحدی ہمالیائی علاقے میں بدترین سیلاب کے باعث کم از کم 469 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں لاپتا ہیں۔ امدادی کارکن ممکنہ دوسرے سیلاب کے خدشے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں، جبکہ تباہ شدہ انفرااسٹرکچر نے نیپال کی معیشت کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔

نیپال کے حکام کے مطابق بدھ کو آنے والے اچانک اور شدید سیلاب سے کم از کم 469 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ چین کے زیر انتظام تبت میں بھی 3 افراد کی ہلاکت اور 550 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے سیلاب کے بعد لگ بھگ 500 غیر ملکی حکام سے رابطے میں نہیں، نیپالی وزیر داخلہ

ریڈ کراس کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارکن لاپتا افراد اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم علاقے میں دوبارہ سیلاب آنے کی اطلاعات نے انہیں ’شدید تشویش‘ میں مبتلا کر دیا ہے۔

چین اور نیپال کی سرحد کے قریب پانی کی ایک جھیل بن گئی ہے جس کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ پانی کناروں سے باہر نکل کر مزید تباہی پھیلا سکتا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق ایک گلیشیئر کے منہدم ہونے سے آنے والی شدید سیلابی لہر نے مکانات اور سڑکیں بہا دیں جبکہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ بھی تباہ ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک سچائی سامنے آگئی

سیلاب سے نیپال کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 80 پل اور تقریباً 40 کلومیٹر پختہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ چین کی سرحد سے متصل یہ علاقہ نیپال اور اس کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے درمیان سامان کی نقل و حرکت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے سڑکوں اور پلوں کی تباہی سے ملک کو انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں خلل کا بھی سامنا ہوگا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب کی بنیادی وجہ ’گلیشیئر کا انہدام‘ ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے زلزلے کو سیلاب کی وجہ قرار دیا تھا، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور اس کے بجائے گلیشیئر کے ٹوٹنے سے یہ تباہ کن سیلابی لہر پیدا ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیائی گلیشیئرز بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر ارضیات ڈینیئل شوگر کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلی سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ سیلاب کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp