اسلام آباد کے مایہ ناز طبی ادارے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ وارڈ کی نرسری میں ایئرکنڈیشنر کے دھماکے اور آگ کے باعث 14 نومولود بچوں کی المناک موت نے ایک بار پھر ملک کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور بنیادی انفراسٹرکچر کے ناقص انتظامات کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد حکومت کی جانب سے وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کر کے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تو تشکیل دے دی گئی ہے، تاہم ماضی کے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ ایسے سانحات کے بعد بننے والی انکوائری کمیٹیاں اور عارضی معطلیاں کبھی بھی مستقل اصلاحات کا سبب نہیں بن سکیں۔
ماضی کے سانحات: تحقیقات اور عدالتی فیصلوں کی حقیقت
پاکستان میں پبلک سیفٹی کے عدم وجود اور انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے پہلے بھی کئی بڑے سانحات جنم لے چکے ہیں، جن میں عدالتی کارروائیوں اور انکوائریز کے نتائج نے بھی حالات نہیں بدلے۔
سانحہ گل پلازہ (2026)
کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 72 افراد جاں بحق، 8 زخمی اور ایک ہزار سے زائد دکانیں متاثر ہوئیں، پولیس کی جانب سے مصنوعی پھولوں کے دکاندار اور مینجمنٹ کمیٹی سمیت 6 افراد کیخلاف چالان پیش کیا گیا۔

تاہم اس چالان کو عدالت نے ایمرجنسی راستوں کی بندش، فائر سیفٹی کی عدم موجودگی اور سرکاری اداروں کی غفلت پر اعتراضات کے ساتھ مسترد کر کے مزید تفتیش کا حکم دیا، جس کے تحت فائر بریگیڈ اور کے ایم سی سمیت مختلف اداروں کے افسران سے دوبارہ تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا، ماہر
اگرچہ حکومت کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی خاندان ایک کروڑ روپے معاوضے کے اعلان کے بعد ادائیگی کی جا چکی ہے، لیکن متاثرہ خاندان محض مالی امداد کے بجائے انتظامی غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داروں کے خلاف حتمی اور مکمل انصاف کے منتظر ہیں۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی (2012)
260 سے زائد مزدوروں کی ہلاکت کے اس سانحے کو ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا، سالہا سال کی قانونی جنگ اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے ستمبر 2020 کے فیصلے میں ثابت ہوا کہ یہ بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی مصنوعی آگ تھی۔

ملزمان کو سزائے موت تو سنائی گئی لیکن ملزمان اپیلوں میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے یوں 260 انسانوں کی موت ایک معمہ بن کر اس نظام پر سوال اٹھا رہی ہے، ساتھ ہی صنعتی و سرکاری عمارتوں میں فائر ایگزٹ یعنی آتشزدگی کی صورت میں انخلا اور فائر سیفٹی کے باقاعدہ نظام کا نفاذ آج بھی ادھورا ہے۔
احمد پور شرقیہ آئل ٹینکر سانحہ (2017)
200 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد اوگرا کی تحقیقاتی رپورٹ پر آئل کمپنی پر 10 کروڑ روپے جرمانہ اور متاثرین کو 24 کروڑ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ تاہم، اس کے بعد بھی قومی شاہراہوں پر آئل ٹینکرز کے سیفٹی ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد نہ ہو سکا نہ ہی ایسی ہنگامی صورت حال میں عوام کو کیا کرنا چاہیے اس حوالے سے موثر مہم چلائی گئی۔

طیاروں کے حادثات (2016 اور 2020)
پاکستان میں مختلف طیاروں کے حادثات کے بعد سپریم کورٹ کے ازخود نوٹسز اور انکوائری بورڈز کی رپورٹس کے نتیجے میں پائلٹس کے لائسنسز کی سخت چھان بین ہوئی اور درجنوں پائلٹس برطرف کیے گئے، مگر ایوی ایشن اور ٹیکنیکل آڈٹ کا جامع نظام اب بھی متعدد سوالات سے گھرا ہوا ہے۔
پمز سانحہ: قانونی اور انتظامی سوالات
قانونی ماہر خیر محمد خٹک کے مطابق، پمز اسپتال کا واقعہ محض ایک حادثہ یا شارٹ سرکٹ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ عموماً ایسے واقعات میں ریاست فوری طور پر حرکت میں آجاتی ہے لیکن اس صورت حال میں ہر متاثرہ فریق انفرادی حیثیت میں قانونی جنگ لڑنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کا بحران
ماہر قانون عبدالجلیل خان مروت کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ماضی میں سرکاری اداروں اور اسپتالوں میں سیفٹی کوڈز لاگو کرنے کے احکامات کے باوجود عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا گیا، انکا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس ایک بڑی مثال ہے سوال تو یہ ہے کہ اس سانحے میں ملوث افراد ناقص تفتیش کے باعث آج بھی نا معلوم ہیں، 260 افراد زندہ جل گئے طویل ٹرائل ہوا اور نتیجہ صفر۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
عبدالجلیل خان مروت کے مطابق نظام ایسا ہو کہ ملوث عناصر بے خوف نہ ہوں، شعبہ تفتیش ایسا ہو کہ ہر مجرم کو سزا ملے اور بے گناہ خود کو محفوظ سمجھے، نظام انصاف آسان ہو نہ کہ اتنا مشکل کہ کوئی عدالت کا رخ ہی نہ کرے، موجودہ نظام پر عمل در آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سانحہ پمز سمیت ماضی کے دیگر سانحات تقاضا کرتے ہیں کہ ان واقعات کو صرف کسی ایک سیکریٹری یا انتظامیہ میں سے کسی فرد کی معطلی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے واقعات کی تہہ تک پہنچا جائے تا کہ آئندہ ایسے جان لیوا حادثات سے بچا جاسکے۔












