سنی دیول، پریتی زنٹا اور شبانہ اعظمی کی فلم ’بٹوارا 1947‘ کو ریلیز سے قبل سال کی اہم فلموں میں شمار کیا جا رہا تھا، تاہم مضبوط کاسٹ اور موضوع کے باوجود فلم باکس آفس پر توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہ کرسکی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم میں اہم کردار ادا کرنے والی شبانہ اعظمی نے اس کی ناکامی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا شائقین سنی دیول کو ایک مسلمان کردار کے طور پر قبول نہیں کر سکے؟
شبانہ اعظمی نے ’زوم‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلم کی انتہائی کمزور باکس آفس کارکردگی پر حیران ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اردگرد موجود کئی لوگوں نے فلم اور اس کے پیغام کو پسند کرنے کی بات کی، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ سینما گھروں تک نہیں پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ سنی دیول کو مسلمان کردار میں کیوں نہیں دیکھ سکتے۔ شبانہ اعظمی نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ فلم ’کولی‘ میں امیتابھ بچن نے مسلمان کردار ادا کیا تھا اور اسے شائقین نے آسانی سے قبول کیا۔
یہ بھی پڑھیں:دھرمیندر کا آخری پیغام، سنی دیول نے والد کی جذباتی ویڈیو شیئر کردی
اداکارہ نے موجودہ ماحول پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں مختلف قسم کی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، جسے وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
شبانہ اعظمی کے مطابق فلم کے حوالے سے بعض لوگوں نے یہ غلط فہمی بھی ظاہر کی کہ سنی دیول نے پاکستانی کردار ادا کیا ہے، حالانکہ فلم میں ان کے کردار کی شناخت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ناظرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کردار پنجابی زبان کیوں بولتا ہے، جس پر وہ حیران اور مایوس ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ فلم دیکھنے والے بعض افراد نے اسے پسند کیا، جبکہ کچھ لوگوں کا ردعمل الجھا ہوا تھا، لیکن مجموعی طور پر فلم کو سینما گھروں میں وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
یاد رہے کہ ’بٹوارا 1947‘ 14 اگست کو ریلیز ہوئی تھی اور دستیاب باکس آفس اعداد و شمار کے مطابق فلم اب تک تقریباً 53.96 کروڑ بھارتی روپے کما سکی ہے۔













