روسی فوج نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق میزائل کو شمال مغربی علاقے آرخانگلسک میں واقع پلیسیٹسک کاسموڈروم سے لانچ کیا گیا، جس نے ملک کے شمال مغربی حصے سے مشرق بعید میں جزیرہ نما کامچٹکا کے کورا تربیتی مرکز تک پرواز کی۔
مزید پڑھیں:امریکی سی آئی اے چیف کے خفیہ دورۂ ماسکو پر دُنیا میں ہلچل، روس کو تباہ کن نتائج کی دھمکی
وزارت دفاع کے مطابق تجربے کے دوران مقررہ تمام اہداف مکمل طور پر حاصل کرلیے گئے، جبکہ میزائل کی کارکردگی اور پرواز کی خصوصیات کی تصدیق ہوئی۔
روسی وزارت دفاع نے میزائل کی قسم ظاہر نہیں کی، تاہم بتایا کہ یہ موبائل لانچ کیے جانے والا ٹھوس ایندھن سے چلنے والا نظام ہے۔
وزارت کے مطابق روسی اسٹریٹجک میزائل فورسز کی تربیتی مشق کے دوران موبائل آئی سی بی ایم لانچر بیٹری کو ایک دور دراز علاقے میں منتقل کرکے لانچ کے لیے تیار کیا گیا اور میزائل داغا گیا۔
رپورٹ کے مطابق روس نے رواں سال مئی میں جدید آر ایس 28 سرمت بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس میزائل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے 10 تک بھاری جوہری وار ہیڈز لے جاسکتا ہے۔
Russia tested an intercontinental ballistic missile (RS-24) yesterday following its threats to strike NATO countries supplying Ukraine with weapons. pic.twitter.com/vn6ie6My3Q
— Sentletse 🇿🇦🇷🇺🇵🇸🇱🇧 (@Sentletse) August 29, 2026
روسی حکام کے مطابق سرمت میزائل ایوانگارڈ ہائپرسونک گلائیڈر سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جو فضا میں انتہائی تیز رفتاری سے ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور فضائی دفاعی نظام کے لیے اسے روکنا مشکل بناتا ہے۔
روسی اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر جنرل سرگئی کراکایف کے مطابق روس رواں سال کے اختتام تک اپنی پہلی میزائل رجمنٹ کو سرمت نظام سے لیس کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سرمت کو’دنیا کا سب سے طاقتور میزائل نظام‘ قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زیادہ اور یہ کسی بھی مغربی میزائل کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:افغان سرحد پر سیکیورٹی خدشات، روس تاجکستان کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کریگا
پیوٹن کے مطابق امریکا کی جانب سے 2022 میں اینٹی بیلسٹک میزائل (اے بی ایم) معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد روس نے ایسے میزائل نظام کی تیاری پر توجہ مرکوز کی جو دفاعی نظاموں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔













