ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی پابندیوں اور جنگ کے نتیجے میں ملک کو درپیش بڑھتی معاشی مشکلات کا اعتراف کرلیا ہے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مفاہمت کا عندیہ دیتے ہوئے اسے امریکا کی جانب سے اسلام آباد معاہدے کی پاسداری سے مشروط کردیا ہے۔
ادھر اسرائیل نے ایران کے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی صورت میں دوبارہ حملوں کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث تہران کو غیر ملکی کرنسی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
Iranian leaders are acknowledging the economic toll of war with the United States, with the supreme leader calling on the government to address the hardship while the president reports that foreign trade has shrunk 35 percent due to the American sanctions and blockade. pic.twitter.com/m3f9V05Hiy
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) August 29, 2026
فوکس نیوز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک سمجھوتے پر اتفاق کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایرانی حکام کے مطابق اس پر عمل درآمد اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کرتا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہاز ایران کے ساتھ رابطے اور تعاون سے ہی گزر سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اگر اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیے تو اسرائیل، امریکا کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے باوجود، ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار
امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے ایران کی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ ایک اسرائیلی ماہر کے مطابق ایران کو حالیہ ہفتوں میں غیر ملکی کرنسی کے کم سے کم ہوتے ذخائر کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ان کے بقول معاشی دباؤ اگرچہ ایران کو کمزور کرسکتا ہے لیکن محض معاشی مشکلات سے حکومت کا خاتمہ یقینی نہیں۔
ادھر ایران میں اساتذہ کے خلاف کریک ڈاؤن، سیاسی قیدیوں اور اپوزیشن کی سرگرمیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تعلیمی سال کے دوران کم از کم 15 اساتذہ ہلاک اور 78 گرفتار کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کے وسیع تر تناظر میں یونان اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 3.6 ارب ڈالر کے فضائی دفاعی معاہدے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کا مقصد ایران اور ترکی سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا بتایا گیا ہے۔














