یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب روسی ڈرون حملے میں اسلحہ ذخیرہ کرنے والے ایک ڈپو میں شدید دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے، جبکہ قریباً 400 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیں:’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، روس حساس معاشی شعبوں کو نشانہ بنائے گا، پیوٹن کا یوکرین کو انتباہ
بی بی سی کے مطابق حملہ جمعہ کی رات کیف کے مغرب میں واقع میلا کے علاقے میں کیا گیا، جہاں ڈپو میں موجود گولے، بارودی سرنگیں اور ڈرونز پھٹنے سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ قریبی رہائشی عمارتیں اور بزرگوں و معذور افراد کے لیے قائم نگہداشت مرکز بھی متاثر ہوا۔
Smoke is still rising from the ammunition depot in the village of Myla, Bucha District, Kyiv Oblast, which was targeted by Russian Geran-4 drone strikes.
The reported death toll has risen to 37, with at least 42 others injured and 381 people evacuated.
Ukrainian President… https://t.co/PBAQllR7BI pic.twitter.com/toDpPvjFkU
— OSINTWarfare (@OSINTWarfare) August 29, 2026
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اسلحہ رہائشی آبادی کے قریب ذخیرہ کرنے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام نے سرکاری غفلت کے الزام میں فوجداری کارروائی بھی شروع کردی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کو یوکرین جنگ میں مداخلت پر روس کی سخت دھمکی، فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا انتباہ
حکام کے مطابق زخمیوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے میلا میں موجود گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا تھا۔














